کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت پر زور دیا ہے کہ سیلاب متاثرین کی فوری مالی معاونت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے کی جائے، ماضی میں بھی وفاقی حکومت نے کووڈ اور 2022 کے تباہ کن سیلاب کے دوران یہی طریقہ اپنایا تھا جس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے،حالیہ جنگ کے دوران کچھ قوم پرست تنظیمیں کھل کر بھارت کی حمایت میں آئیں اور بھارت نے بھی کھل کر یہ بات تسلیم کی کہ وہ مخصوص دہشت گرد تنظیموں کو مالی مدد پہنچا رہا ہے، ہم اس ہی مسئلے کو عالمی سطح پر بلند کررہے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی کے وزیراعلیٰ ہاوس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ سندھ حکومت چھوٹے کسانوں کی بحالی کے لیے ”بے نظیر ہاری کارڈ“ کے تحت عملی اقدامات کر رہی ہے،جس کے ذریعے ڈی اے پی اور یوریا کھاد خریدنے میں سبسڈی دی جائے گی،اگر کسانوں کو سہارا نہ دیا گیا تو ملک کو ایک بار پھر گندم درآمد کرنا پڑے گی،اس کے برعکس کسانوں کی مدد سے پاکستان گندم برآمد کرنے کے قابل ہو سکتا ہے،حکومت سندھ نے فیصلہ کیا ہے کہ بینظیر ہاری کارڈ کے ذریعے 1 ایکڑ سے 25 ایکڑ تک زمین رکھنے والے چھوٹے کسانوں اور زمینداروں کو یوریا اور ڈی اے پی میں سپورٹ فراہم کی جائے گی،اس اقدام کا مقصد گندم کی پیداوار بڑھا کر کسانوں کی مدد کرنا اور ملک کو گندم کی درآمد سے بچانا ہے۔چیئرمین پیپلز پارٹی نے وفاق سے مطالبہ کیا کہ زرعی ایمرجنسی کے تحت آئی ایم ایف سے براہِ راست بات کی جائے، کسانوں کو ٹیکس ریلیف دیا جائے اور گندم کی امدادی قیمت پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب خصوصاً جنوبی پنجاب میں تباہی غیر معمولی ہے، مگر وفاقی حکومت نے اب تک بی آئی ایس پی کے تحت متاثرہ کسانوں کی مدد کا کوئی اقدام نہیں کیا،اگر پنجاب کے عوام سب سے زیادہ بی آئی ایس پی کے بینیفشری ہیں تو پھر جنوبی پنجاب کو ریلیف سے محروم کیوں رکھا جا رہا ہے؟ بی آئی ایس پی کی بنیاد پیپلز پارٹی نے رکھی تھی اور آج یہ پروگرام نہ صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں کامیاب ماڈل کے طور پر سراہا جا رہا ہے،جو لوگ اس پروگرام پر تنقید کر رہے ہیں وہ شاید اس کے اصل دائرہ کار اور عوامی اثرات سے ناواقف ہیں۔بلاول بھٹو نے وفاقی حکومت کو عالمی اداروں سے فوری امداد کی اپیل نہ کرنے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ماضی میں ہر قدرتی آفت پر وفاق نے بروقت اپیل کر کے زیادہ وسائل حاصل کیے مگر اس بار تاخیر نے امدادی عمل کو محدود کر دیا ہے۔پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے پاک سعودی دفاعی معاہدے کو مثبت قرار دیا اور امید ظاہر کی کہ یہ شراکت داری خطے میں استحکام لائے گی۔ فلسطین کے معاملے پر بلاول نے کہا کہ اقوام متحدہ میں اس بار جس انداز میں بات ہوئی وہ فلسطینی عوام کی جدوجہد کی کامیابی کا ثبوت ہے۔کراچی کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار سڑکوں کی کھدائی مختلف اداروں کی ناقص منصوبہ بندی کا نتیجہ ہے، جس پر وزیراعلیٰ سندھ سے موثر حکمت عملی بنانے کی درخواست کی جائے گی۔ پانی کے بحران کو انہوں نے سب سے بڑا چیلنج قرار دیا اور کہا کہ حب کینال سمیت کئی منصوبوں پر کام جاری ہے۔این ایف سی ایوارڈ پر بات کرتے ہوئے بلاول نے کہا کہ وفاق ایف بی آر کی ناکامی کا بوجھ صوبوں پر نہیں ڈال سکتا۔ انہوں نے تجویز دی کہ سیلز ٹیکس آن گڈز صوبوں کے حوالے کیا جائے تاکہ محصولات میں شفافیت اور کارکردگی بہتر ہو۔بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ بلوچستان میں عسکری حل مسائل کا جواب نہیں لیکن دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات ناگزیر ہیں، بھارت بعض قوم پرست تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے جس سے امن کے قیام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔پنشن کٹوتی پر احتجاج سے متعلق سوال پر بلاول نے کہا کہ محنت کشوں اور پنشنرز کے حقوق پر سمجھوتہ ممکن نہیں، وزیراعلیٰ سے کہا ہے کہ احتجاجی وفد سے ملاقات کریں اور ان کے خدشات دور کریں،پنیشنرز کو زندگی بھر پینشنز ملتی رہے گی جیسے پہلے مل رہی تھی،کچھ بے ضابطگیوں پر نشاندہی کی گئی ہے مگر پھر بھی میں نے وزیر اعلیٰ سید مراد علی شاہ کو کہا ہے کہ وہ لوگ احتجاج کرر ہے ہیں،ان سے بات کر کے ان کے جائز مطالبات مانے جائیں۔انہوں نے کہا کہ وفاقی تعاون سے سندھ میں تاریخ کا سب سے بڑا ہاوسنگ پروگرام اور لینڈ ریفارم ممکن ہوا ہے، وفاق نے وعدے پورے کیے ہیں اور ہم اپنی عوامی خدمت کے وعدے بھی پورے کریں گے۔
بلاول بھٹو کا وفاق سے بڑا مطالبہ،سیلاب متاثرین کی فوری مدد بی آئی ایس پی کے ذریعے،کسانوں کے لیے زرعی ایمرجنسی کی اپیل
7