پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاکستان کسی صورت دہشتگردوں کے سامنے سر نہیں جھکائے گا، کیونکہ ہتھیار ڈالنا ہماری لغت کا حصہ نہیں۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ کھڑی ہو، کیونکہ یہ جنگ صرف پاکستان کی نہیں بلکہ پوری دنیا کے امن کے لیے ہے۔
“دنیا کیلئے پاکستان کی دہشتگردی کے خلاف جنگ” کے عنوان سے منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو نے کہا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں عزم و حوصلے سے حصہ لیا ہے اور اپنی آنے والی نسلوں کے محفوظ مستقبل کے لیے انتہاپسندی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔
انہوں نے آپریشن ضربِ عضب اور ردالفساد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کارروائیوں نے دہشتگردوں کے نیٹ ورک کو شدید نقصان پہنچایا۔ بلاول بھٹو نے واضح کیا کہ دہشتگردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور پاکستان نے اس کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ جانی و مالی قربانیاں دی ہیں۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے بھارت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ الزام تراشی کے بجائے خطے کے امن کے لیے سنجیدہ بات چیت کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر جیسے تنازعات کا حل مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے، اور بھارت کو پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی پالیسی ترک کرنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف ہر اول دستے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ڈیجیٹل پروپیگنڈہ موجودہ دور کا ایک نیا چیلنج ہے جس سے نمٹنے کے لیے مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پاکستان نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اب تک 92 ہزار جانوں کا نذرانہ دیا ہے۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت سے دوحہ معاہدے کی شرائط پر عملدرآمد کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد افغان سرزمین سے پاکستان پر حملوں میں 40 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی 65 فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، اور ان کے لیے روزگار و ترقی کے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو فائر وال کے بجائے تیز رفتار انٹرنیٹ کی ضرورت ہے تاکہ وہ دنیا کے ساتھ جُڑ کر ترقی کی دوڑ میں شامل ہو سکیں۔