Home » سیاسی ڈیڈلاک توڑنے کی کوشش،نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا دوطرفہ مذاکرات،سیاسی قیدیوں کی رہائی اور میڈیا سینسر شپ کے خاتمے کا مطالبہ

سیاسی ڈیڈلاک توڑنے کی کوشش،نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کا دوطرفہ مذاکرات،سیاسی قیدیوں کی رہائی اور میڈیا سینسر شپ کے خاتمے کا مطالبہ

by ahmedportugal
3 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نیشنل ڈائیلاگ  کمیٹی  نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی کشیدگی کم کرنے کے لیے دو طرفہ مذاکراتی کمیٹیوں کی تشکیل، سیاسی قیدیوں کی رہائی،سیاسی مقدمات کے خاتمے اور میڈیا سینسرشپ ختم کرنے کی سفارش کرتے ہوئے اپنا متفقہ اعلامیہ جاری کر دیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیر اہتمام قومی ڈائیلاگ کانفرنس اسلام آباد میں ڈاکٹر شہزاد وسیم کی رہائش گاہ پر منعقد ہوئی،جس میں سیاسی جماعتوں، وکلاء،دانشوروں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔کانفرنس میں حکومت اور اپوزیشن کے مابین مذاکرات کے طریقہ کار،سیاسی درجہ حرارت میں کمی اور اعتماد سازی کے اقدامات پر تفصیلی غور کیا گیا۔کانفرنس کے آغاز میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے ایجنڈے اور آئندہ لائحہ عمل پر روشنی ڈالی۔اجلاس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی،سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل،محمد علی درانی،لیاقت بلوچ،وسیم اختر،بیرسٹر سیف، محمود مولوی،سابق اپوزیشن لیڈر سینیٹ ڈاکٹر وسیم شہزاد،حفیظ اللہ نیازی،جنرل (ر) نعیم لودھی،فیصل چوہدری،شیر افضل مروت سمیت دیگر سیاسی و سماجی شخصیات شریک ہوئیں۔

سابق گورنر سندھ عمران اسماعیل نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا موجودہ مقام ماضی میں کم ہی دیکھنے کو ملا،ملک میں سیاسی استحکام صرف اور صرف بات چیت کے ذریعے ممکن ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دفاعی فورسز کا ساتھ دینا ناگزیر ہے اور ایک دوسرے پر غداری کے الزامات لگانے کے بجائے مکالمے کو فروغ دینا ہو گا۔ان کا کہنا تھا کہ نیشنل ڈائیلاگ ایک ماہ قبل شروع ہوا اور اب باقاعدہ کمیٹی کی شکل اختیار کر چکا ہے،ملک کی غیر معمولی سیاسی صورتحال سب سے مل کر آگے بڑھنے کی متقاضی ہے۔حفیظ اللہ نیازی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کس حد تک تعاون کر سکتے ہیں، یہ مذاکراتی عمل کے لیے اہم ہو گا،امید ہے کہ اس کا کوئی مثبت حل نکل آئے گا۔جنرل (ر) زاہد نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس اور فوج کی قربانیاں پاکستان کے لیے ہیں اور شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔بیرسٹر محمد علی سیف علی خان نے کہا کہ ملک میں شدید سیاسی تقسیم پائی جاتی ہے،اعتماد سازی کی فضا قائم کیے بغیر استحکام ممکن نہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ تاثر موجود ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی سیاسی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہے،اسی لیے رکاوٹیں ڈالی گئیں تاہم سازگار ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے۔

صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ہارون رشید نے کہا کہ ملکی تاریخ میں عدلیہ اور سیاسی جماعتوں کا کردار متنازع رہا،سیاست دانوں کو خود مضبوط ہونا ہو گا اور اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے۔رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت  نے کہا کہ ڈائیلاگ ہمیشہ پائیدار نتائج دیتا ہے،سیاسی مخالفت کو انتہا تک  لے جایا گیا،جس سے نقصان ہوا۔انہوں  نے کہا کہ مذاکرات صرف بانی چیئرمین کی رہائی تک محدود نہیں ہونے چاہئیں بلکہ بنیادی نظام پر ہونے چاہئیں،فوج پاکستان کی طاقت بنے،پاکستان کو فوج کی طاقت نہ بنایا جائے۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ مذاکرات پر عملدرآمد کون کروائے گا؟ایم کیو ایم کے رہنما وسیم اختر نے کہا کہ اصل مسائل عوام بھگت رہے ہیں،سیاست دانوں سمیت سب کرپشن میں ملوث ہیں،عوام کا اعتماد بری طرح مجروح ہو چکا ہے۔جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت اور اپوزیشن کے بیانیے بدلتے رہتے ہیں،مسائل کا حل اخلاص کے ساتھ تلاش کرنا ہو گا،لاپتا افراد،آزادی صحافت،صوبوں کے درمیان ہم آہنگی اور عوامی مینڈیٹ کو تسلیم کرنا بھی ڈائیلاگ کا حصہ ہونا چاہیے۔

کانفرنس کے اختتام پر فواد چوہدری نے کمیٹی کا اعلامیہ پڑھ کر سنایا جس میں کہا گیا کہ مذاکرات کے لیے حکومتی اور اپوزیشن کمیٹیاں تشکیل دی جائیں،حکومتی کمیٹی وزیراعظم شہباز  شریف،نواز شریف اور صدر مملکت تشکیل دیں جبکہ اپوزیشن کمیٹی کی تشکیل کے لیے سیاسی قیدیوں تک رسائی دی جائے۔حکومت اور اپوزیشن افواج پاکستان کو اپنی سیاست کے لئے استعمال نہ کریں اور ہی منفی پراپیگنڈا کیا جائے۔اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی میں فوری طور پر اپوزیشن لیڈر تعینات کیا جائے،محترمہ بشری بی بی ،ڈاکٹر یاسمین راشد سمیت تمام خواتین سیاسی کارکنوں کو فوری رہا کیا جائے،سیاسی مقدمات ختم کیے جائیں،میڈیا سینسرشپ اور اینکرز پر عائد پابندیوں کا خاتمہ کیا جائے اور سیاسی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے۔کانفرنس میں شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے دعا کی گئی اور نیشنل ڈائیلاگ کے عمل کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔کمیٹی کا آئندہ اجلاس ملتان میں منعقد ہو گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز