اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)بیرونِ ملک پاکستانیوں کی بڑے پیمانے پر وطن واپسی نے حکام اور عوام دونوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جہاں بھیک مانگنے، جعلی سفری دستاویزات کے استعمال اور غیرقانونی سفر کی کوششوں کے باعث ڈی پورٹیشن کے واقعات میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران مختلف ممالک سے 20 ہزار سے زائد پاکستانی شہریوں کو واپس بھیجا گیا، جو نہ صرف ویزا قوانین کی خلاف ورزیوں بلکہ بیرونِ ملک پاکستان کے تشخص کے لیے بھی ایک سنگین چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق گزشتہ ایک برس کے دوران مختلف ممالک سے 3 ہزار 500 سے زائد پاکستانی شہریوں کو ڈی پورٹ کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس سے بیرونِ ملک پاکستانیوں کے طرزِ سفر، ویزا کے غلط استعمال اور غیرقانونی سرگرمیوں پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ذرائع کے مطابق رواں سال کے 11 ماہ میں ڈی پورٹ ہونے والے پاکستانیوں کی تعداد گزشتہ برس کے مقابلے میں نمایاں طور پر بڑھ گئی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 2025 کے ابتدائی 11 ماہ کے دوران بیرونِ ممالک سے 20 ہزار 262 پاکستانی شہریوں کو کراچی واپس بھیجا گیا جبکہ گزشتہ برس اسی مدت میں یہ تعداد 16 ہزار 461 تھی۔اس طرح ایک سال کے دوران ڈی پورٹیشن میں 3 ہزار 800 کے قریب اضافہ ریکارڈ کیا گیا،جو ایک تشویشناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔اعداد و شمار کے مطابق ڈی پورٹ کیے گئے افراد کی اکثریت سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے واپس بھیجی گئی،جہاں عمرہ اور وزٹ ویزا پر جانے والے پاکستانیوں میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے واقعات زیادہ سامنے آئے۔ذرائع کے مطابق خلیجی ممالک میں بھیک مانگنے،غیرقانونی قیام اور ویزا کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کے نتیجے میں بڑی تعداد میں پاکستانی شہریوں کو وطن واپس بھیجا گیا۔مزید بتایا گیا کہ کئی افراد جعلی سفری دستاویزات یا وزٹ ویزوں کے ذریعے خلیجی ممالک پہنچے اور وہاں سے یورپ یا دیگر ممالک جانے کی کوشش کرتے رہے،جس کے باعث انہیں حراست میں لے کر ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ان افراد کو بھی کراچی کے راستے پاکستان واپس بھیجا گیا۔ذرائع کے مطابق ڈی پورٹیشن میں اضافے نے نہ صرف پاکستانی پاسپورٹ کی ساکھ بلکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے سفری سہولتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ متعلقہ اداروں کا کہنا ہے کہ ویزا قوانین کی خلاف ورزی،غیرقانونی سرگرمیوں اور جعلی دستاویزات کے استعمال کی روک تھام کے لیے مزید سخت اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں تا کہ بیرونِ ممالک میں پاکستان کا مثبت تشخص برقرار رکھا جا سکے۔
بھیک، جعلی کاغذات اور غیر قانونی سفر،پاکستانیوں کی ڈی پورٹیشن میں تشویشناک اضافہ،ایک سال میں 20 ہزار سے زائد پاکستانی وطن واپس بھیج دیے گئے
37