لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستانی ڈرامہ انڈسٹری میں تیزی سے ابھرتی ہوئی اداکارہ ماریہ ملک نے ایک چونکا دینے والا انکشاف کر کے شوبز دنیا کے “روشن پردے” کے پیچھے چھپے سیاہ پہلووں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے یہ انڈسٹری آج بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے،ہراسانی کے واقعات کی بازگشت ہر کونے میں سنائی دیتی ہے، اور بہت سی لڑکیاں آج بھی دباو اور استحصال کا شکار بنتی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق یوٹیوب چینل کو دیے گئے حالیہ انٹرویو میں ماریہ ملک نے بتایا کہ تین سال قبل جب وہ شوبز میں آئیں تو ان کی خواہش تھی کہ مرکزی کردار ادا کریں، مگر پروڈکشن ہاوسز بار بار انہیں سپورٹنگ رولز کی پیشکش کرتے۔ انکار کرنے پر ان کا رویہ اس حد تک عجیب ہو جاتا کہ یہ پیغام صاف ملتا تھا کہ “رول لینے کے لیے سمجھوتہ کرنا پڑے گا”۔ اداکارہ نے کہا کہ اگرچہ ان کے ساتھ ذاتی طور پر کوئی ہراسانی کا واقعہ پیش نہیں آیا، لیکن ساتھی فنکاروں کی کہانیاں سن کر یہ تسلیم کرنا پڑتا ہے کہ اس چمکتی دمکتی دنیا کے پیچھے کئی خوفناک اندھیرے ہیں۔ماریہ ملک نے انکشاف کیا کہ انڈسٹری میں خواتین پر دباو ڈالنے اور انہیں کردار دلوانے کے بدلے “غیر پیشہ ورانہ تقاضے” رکھنے کا سلسلہ آج بھی زندہ ہے۔ان کا کہنا تھا کہ وہ خود زیادہ میل جول اور غیر ضروری روابط سے گریز کرتی ہیں تاکہ اس طرح کی ناپسندیدہ صورتحال سے محفوظ رہ سکیں۔انہوں نے اس بات کو بھی تسلیم کیا کہ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے دباو نے کچھ حد تک ماحول کو بہتر بنایا ہے، لیکن “خطرہ اب بھی کہیں نہ کہیں چھپا بیٹھا ہے”۔ ان کا کہنا تھا کہ کئی نوجوان خواتین صرف خواب پورے کرنے کی خاطر اس ماحول کا شکار بن جاتی ہیں اور اکثر خاموش رہتی ہیں۔ماریہ ملک کی یہ گفتگو نہ صرف شوبز کے رنگین پردے کے پیچھے چھپے کڑوے سچ کو بے نقاب کرتی ہے بلکہ یہ سوال بھی چھوڑ جاتی ہے کہ کب تک یہ انڈسٹری خواتین کے لیے ایک “خوف زدہ میدان” بنی رہے گی؟ اور کب کوئی ایسا نظام بنے گا جو اداکاراوں کو حقیقی معنوں میں تحفظ دے سکے؟۔
خوبرو اداکارہ ماریہ ملک نے شوبز کی چکاچوند کے پیچھے چھپے سیاہ راز بے نقاب کر دیے،ٹی وی انڈسٹری میں تہلکہ برپا
38