اسلام آباد کے ترلائی میں امام بارگاہ پر خودکش دھماکہ ہوا۔31 انسان شہید، ایک سو انہتر زخمی۔۔۔ زمین پر خون تھا، فضا میں چیخیں تھیں، گھروں میں صفِ ماتم بچھی تھی۔۔۔ یہ دن وہ تھا جس دن ضمیر اگر زندہ ہو تو سانس بھی آہستہ لیتا ہے۔۔۔مگر اسی دن، لاہور میں، پنجاب یونیورسٹی کی چھت پر ایک اور ہی منظر تھا۔۔۔وہاں لاشیں نہیں تھیں، وہاں بوکاٹا تھا۔۔۔۔وہاں آہیں نہیں تھیں، وہاں قہقہے تھے۔۔۔وہاں سوگ نہیں تھا، وہاں بسنتی دوپٹے تھے۔۔۔اور اس تماشے کے عین وسط میں پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ کا وائس چانسلر، جو اس دن استاد، رہنما یا سربراہ نہیں، بلکہ خوشی کا اشتہاری ماڈل بن چکا تھا۔۔۔کمال یہ ہے کہ جس مسلک میں غم عبادت، خاموشی شعور اور ضبط فخر سمجھا جاتا ہے، اسی مسلک کا دعوے دار اس دن ایسا بے خبر تھا جیسے کربلا نہیں، کوئی میلہ لگا ہو۔۔۔ساری زندگی اہلِ بیت کے نام پر کھایا،اوڑھا، کمایا مگر جب اہلِ بیت کے ماننے والے لاشوں میں بدل رہے تھے تو صاحب کو پتنگ کی ڈور زیادہ عزیز نکلی۔۔۔یہ صرف بے حسی نہیں یہ اخلاقی بے شرمی ہے۔۔۔۔

وائس چانسلر صاحب شاید یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ وہ کسی دوست کی چھت پر ہیں، کسی ادارے کے سربراہ نہیں۔۔۔ انہیں یاد ہی نہ رہا کہ ان کی ایک مسکراہٹ ہزاروں طلبہ کے ذہن میں نقش ہو جاتی ہے۔۔۔ اس دن انہوں نے طلبہ کو یہ سبق دیا کہ”علم بعد میں، مزہ پہلے“۔ قوم بعد میں، تصویر پہلے۔۔۔۔سانحہ بعد میں، بسنت پہلے“۔۔۔ایسے لوگ قیادت نہیں کرتے، تماشا لگاتے ہیں۔۔۔جو شخص قومی المیے کے دن بھی خود کو روک نہ سکے، وہ طلبہ کو کیا ضبط سکھائے گا؟؟؟جو جنازوں کے شور میں بھی بوکاٹا کی آواز بلند رکھے، وہ ادارے کی خاموش عظمت کا کیا رکھوالا ہوگا؟؟؟خاموش رہنا مشکل نہیں تھا۔۔۔ایک دن خوشی موخر کرنا کوئی جہاد نہیں تھا۔۔۔سوگ میں سر جھکا لینا کوئی کمزوری نہیں تھی۔۔۔مگر صاحبِ موصوف نے ثابت کیا کہ ان کے نزدیک وقار سے زیادہ واہ واہ اہم ہے،ادارے سے زیادہ اپنی موج عزیز ہے اور شہادتوں سے زیادہ بسنت کی تصویریں قیمتی ہیں۔۔۔پنجاب کی سب سے بڑی جامعہ کا سربراہ اگر اس سطح پر آ جائے کہ غم کے دن میں بھی کھلنڈرا پن دکھانا ضروری سمجھے تو پھر سوال اس ایک شخص کا نہیں رہتا، سوال پورے نظامِ قیادت کا بن جاتا ہے۔۔۔یہ کالم کسی مسلک کے خلاف نہیں،یہ بے ضمیری کے خلاف فردِ جرم ہے۔۔۔کیونکہ جب لاشوں پر رنگ اڑائے جائیںتو خاموشی جرم بن جاتی ہے۔۔۔اور قلم کا کاٹنا فرض۔۔۔اور تاریخ کا المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگ خود کو بڑے منصب پر بیٹھا دیکھ کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ اب ان سے کوئی سوال نہیں ہوگا۔۔۔ مگر یاد رکھیے، قومیں لاشیں نہیں گنتیں، رویّے یاد رکھتی ہیں۔۔۔۔ کل جب طلبہ آپ کو سنجیدہ نہ لیں، جب ادارہ وقار کی جگہ تماشہ بن جائے، جب قیادت کی بات وزن کے بجائے قہقہے سمجھی جائے تو اس دن کسی دھماکے کی ضرورت نہیں ہوگی، کیونکہ ادارے تب اندر سے جل چکے ہوں گے۔۔۔ شہادتوں کے دن بسنت منانے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ تاریخ بسنتی رنگ نہیں پہنتی، وہ سیاہ حاشیے میں نام لکھتی ہے اور وہاں معذرت، وضاحت یا بوکاٹا کسی کام نہیں آتا۔۔۔

