Home » عمران خان کو شفا کے بجائے پمز منتقل کرنے پر بیرسٹر گوہر برہم،حکومتی اقدام کو عدالتی حکم سے انحراف قرار دے دیا ”کوئی نہیں چاہتا مسائل حل ہوں“

عمران خان کو شفا کے بجائے پمز منتقل کرنے پر بیرسٹر گوہر برہم،حکومتی اقدام کو عدالتی حکم سے انحراف قرار دے دیا ”کوئی نہیں چاہتا مسائل حل ہوں“

by ahmedportugal
19 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوزڈیسک)سابق وزیر اعظم اور پاکستان تحریک انصاف( پی ٹی آئی)کے بانی عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے کے بجائے پمز ہسپتال لے جانے پر تحریک انصاف نے سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے حکومتی اقدام کو عدالتی فیصلے سے انحراف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم واضح تھا اور اگر حکومت کو کسی شق پر اعتراض یا ابہام تھا تو نظرثانی کی درخواست دائر کی جاسکتی تھی مگر مقررہ ہسپتال کے بجائے عمران خان کو دوسرے ہسپتال منتقل کرنا انتہائی بدقسمتی ہے،جس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ ”کوئی نہیں چاہتا کہ مسائل حل ہوں۔“
ایگزو نیوز کے مطابق عمران خان کو سپریم کورٹ کے حکم کے تحت شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کے بجائے پمز سپتال لے جانے کے معاملے پر بیرسٹر گوہر علی خان نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے حکومتی اقدام کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا حکم واضح تھا اور بانی پی ٹی آئی کو اسی ہسپتال میں منتقل کرکے وہاں طبی نگرانی میں رکھنا چاہیے تھا۔بیرسٹر گوہر نے کہا کہ انہیں توقع نہیں تھی کہ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل کے بجائے کسی دوسرے ہسپتال منتقل کیا جائے گا،جو کچھ ہوا وہ انتہائی بدقسمتی ہے اور اس صورتحال سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ کوئی نہ کوئی فریق مسائل کے حل کی راہ میں رکاوٹ بن رہا ہے ۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ مبہم نہیں تھا،اگر حکومت کو عدالتی حکم کے کسی حصے کی تشریح یا طریقہ کار پر تحفظات تھے تو اس کے لیے قانونی راستہ موجود تھا اور نظرثانی درخواست دائر کی جاسکتی تھی،عدالتی حکم کے بجائے اس کی اپنی تشریح کے مطابق عملدرآمد کرنا مناسب نہیں۔

بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ عدالت عظمیٰ نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل منتقل کرنے کا واضح حکم دیا تھا اور طبی معائنے کے بعد انہیں وہاں رکھنے کا مقصد بھی صرف ایک مختصر چیک اپ نہیں بلکہ مناسب طبی نگرانی فراہم کرنا تھا،اس حکم پر مکمل عملدرآمد ہونا چاہیے تھا۔دوسری طرف حکومت کی جانب سے پیش کی جانے والی وضاحت کے مطابق عمران خان کو سیکیورٹی خدشات کے باعث شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز لے جایا گیا،جہاں ماہر امراض چشم،ماہر امراض قلب اور فزیشن سمیت ڈاکٹروں کی ٹیم نے ان کا معائنہ کیا۔ سرکاری موقف کے مطابق شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹرز بھی طبی عمل میں شامل تھے۔وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے مطابق 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب عمران خان کو عدالتی حکم کی روشنی میں طبی معائنے کے لیے ہسپتال منتقل کیا گیا اور تفصیلی طبی جائزے کے بعد انہیں طبی طور پر فِٹ قرار دیا گیا۔ان کے مطابق طبی معائنے کے دوران عمران خان کی بہن ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی موجود تھیں اور تمام ضروری مراحل مکمل ہونے کے بعد انہیں تقریباً صبح پانچ بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کردیا گیا۔

سرکاری وضاحت کے مطابق شفا انٹرنیشنل جانے والے راستوں اور ہسپتال کے اطراف پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی کے باعث سیکیورٹی صورتحال پیچیدہ ہوگئی تھی،جس کے بعد عمران خان کو پمز منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام کسی سیاسی مقصد کے بجائے سیکیورٹی اور طبی انتظامات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی اس وضاحت سے مطمئن نہیں اور اس کا موقف ہے کہ اگر سیکیورٹی یا انتظامی نوعیت کے مسائل موجود تھے تو انہیں عدالتی حکم کے مطابق حل کیا جانا چاہیے تھا۔پارٹی نے اس معاملے کو عدالتی حکم پر عملدرآمد سے جوڑتے ہوئے شفاف وضاحت اور عمران خان کے طبی ریکارڈ تک مناسب رسائی کا مطالبہ کیا ہے۔یہ تنازع سپریم کورٹ کے اس حکم کے فوراً بعد سامنے آیا ہے جس میں عدالت نے عمران خان کو شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے،ماہر ڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ سے معائنہ کرانے اور ان کے ذاتی معالج کو طبی عمل میں شامل کرنے کی ہدایت کی تھی۔

عدالت نے اہلخانہ سے ہفتہ وار ملاقات اور طبی معاملات کے حوالے سے متعدد شرائط بھی عائد کی تھیں۔حکومت اس سے قبل نجی ہسپتال منتقلی کے عدالتی حکم پر نظرثانی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع بھی کرچکی ہے۔حکومتی موقف یہ ہے کہ جیل میں موجود قیدیوں کے علاج کے لیے عمومی طور پر سرکاری طبی سہولیات استعمال کی جاتی ہیں اور نجی ہسپتال منتقلی کے لیے مخصوص قانونی و طبی تقاضوں کو سامنے رکھنا ضروری ہے۔بیرسٹر گوہر نے حکومت پر زور دیا کہ سیاسی معاملات کو مزید پیچیدہ بنانے کے بجائے عدالتی احکامات کی مکمل پاسداری کی جائے اور عمران خان کے علاج کے معاملے کو شفاف طریقے سے آگے بڑھایا جائے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی سیاسی مسائل کو مذاکرات اور آئینی راستے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے مگر اس کے لیے ریاستی اداروں اور حکومت کی جانب سے بھی اعتماد سازی کے اقدامات ضروری ہیں۔یوں عمران خان کی شفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز منتقلی نے ان کے علاج سے متعلق پہلے سے جاری قانونی اور سیاسی تنازع کو مزید نمایاں کردیا ہے جبکہ حکومت اور پی ٹی آئی کے موقف میں واضح اختلاف برقرار ہے۔آئندہ عدالتی کارروائی میں اس امر پر بھی توجہ مرکوز رہنے کا امکان ہے کہ سپریم کورٹ کے حکم پر کس حد تک اور کس طریقہ کار کے تحت عمل کیا گیا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز