راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے چیئرمین بیرسٹر گوہرعلی خان نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی پیش رفت پر جہاں عالمی سطح پر مثبت ردعمل سامنے آ رہا ہے وہیں بعض عناصر کی جانب سے اس پر ناخوشی بھی ظاہر کی جا رہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سفارتی کامیابیاں ملک کے مفاد میں ہیں تاہم داخلی سیاسی اختلافات اور قیادت کی صورتحال پر پارٹی کے اندر سنجیدہ مشاورت جاری ہے جبکہ عمران خان کی رہائی کے حوالے سے بھی کوششیں تیز کی جا رہی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق راولپنڈی اڈیالہ روڈ پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کامیابیوں پر ملک کے مخالفین ناخوش ہو سکتے ہیں تاہم یہ پیش رفت مجموعی طور پر ملک کے مفاد میں ہے،اگرچہ بعض حلقوں میں تحفظات پائے جاتے ہیں لیکن اصل مقصد ملک کی ترقی اور استحکام ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ لاہور میں اسیران کی فیملیز سے ملاقات ہوئی اور نورین نیازی سے بھی ملاقات کی گئی،عمران خان کی بہنیں سمجھتی ہیں کہ ہم زیادہ کر سکتے ہیں لیکن ہم وہ نہیں کر پاتے۔بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی سے میری ملاقات ہوئی ہے تاہم تفصیل نہیں بتا سکتا،عمران خان کی ہدایات ہیں محمود اچکزئی جو فیصلہ کریں گے ان کو فالو کرنا ہے،محمود خان اچکزئی کی اگر کوئی ناراضی ہے تو ہم دور کریں گے،سوشل میڈیا پر کسی کا کنٹرول نہیں،پی ٹی آئی کا موقف لیڈر شپ پیش کرتی ہے،عمران خان اور بشریٰ بی بی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کی صحت کے پیش نظر ان کی جلد رہائی ضروری ہے۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت سیاسی اور قانونی دونوں سطحوں پر اپنے رہنماوں کی رہائی کے لیے اقدامات کر رہی ہے،جمہوری عمل میں سیاسی جماعت کے سربراہ کی ملاقاتوں پر پابندی مناسب نہیں اور اس سے جمہوری اصول متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے احکامات کے مطابق ہر منگل کو اڈیالہ جیل کا دورہ کیا جاتا ہے تاہم 16 اکتوبر کے بعد ملاقاتوں میں رکاوٹیں پیش آ رہی ہیں،ایک بڑی سیاسی جماعت کے قائد سے ملاقاتوں کا تسلسل نہ ہونا جمہوری نظام کے لیے تشویش کا باعث ہے۔پی ٹی آئی چیئرمین نے کہا کہ پارٹی کی خواہش ہے کہ ملک ترقی کرے اور عالمی سطح پر اس کا وقار بلند ہو،پاکستان کو درپیش چیلنجز کے حل کے لیے اندرونی اتحاد ضروری ہے اور بیرونی سطح پر مثبت سفارتی پیش رفت کو سراہا جانا چاہیے۔انہوں نے دہشت گردی کے حوالے سے کہا کہ اس کے خاتمے پر پی ٹی آئی کا واضح موقف ہے اور ملک میں کسی بھی دہشت گرد گروہ کو محفوظ پناہ گاہ نہیں ملنی چاہیے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ پارٹی میں اختلافی معاملات کو اندرونی سطح پر حل کیا جانا چاہیے اور میڈیا یا عوامی سطح پر منفی گفتگو سے گریز کیا جانا چاہیے۔انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ پارٹی رہنماوں کی فیملی کا احترام کیا جانا چاہیے اور کسی کے خلاف سخت زبان استعمال نہیں ہونی چاہیے۔