دبئی(ایگزو نیوز ڈیسک) قطر میں حالیہ فضائی کارروائی کے بعد متحدہ عرب امارات(یو اے ای) نے اسرائیل کے خلاف اہم قدم اٹھاتے ہوئے دبئی ایئر شو میں اسرائیلی شرکت پر پابندی عائد کر دی ہے،اس اقدام سے خطے میں سفارتی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور 2020 میں قائم ہونے والے یو اے ای،اسرائیل تعلقات پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق قطر میں فضائی حملے کے بعد یو اے ای نے فوری ردعمل ظاہر کیا اور اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کروایا۔متحدہ عرب امارات نے اس حملے کو قطر کی علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔دوسری جانب متحدہ عرب امارات کی حکومت نے دبئی ایئر شو میں اسرائیلی شرکت کو روک دیا ہے،دبئی ایئر شو میں اسرائیل کی شرکت پر پابندی کے فیصلے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یو اے ای نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر سخت موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے۔یہ پہلو قابل ذکر ہے کہ 2020 میں اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان سفارتی تعلقات قائم ہوئے تھے،جس کے بعد دونوں ممالک نے مختلف اقتصادی اور دفاعی شعبوں میں تعاون بڑھایا تھا۔عرب میڈیا کے مطابق،یو اے ای کی یہ پالیسی خطے میں دیگر ممالک کے لیے بھی پیغام ہے کہ علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کسی صورت قبول نہیں کی جائے گی۔اسرائیل کی دبئی ایئر شو میں عدم شرکت کے باعث بین الاقوامی فضائی اور دفاعی صنعت پر بھی اثر پڑنے کی توقع ہے کیونکہ یہ نمائش ہر سال عالمی سطح پر اہم دفاعی اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو متحرک کرتی ہے۔سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یو اے ای کا یہ قدم ایک محتاط مگر موثر اشارہ ہے کہ خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے اسے عالمی اور علاقائی تعلقات میں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس اقدام سے نہ صرف اسرائیل بلکہ دیگر شریک ممالک کو بھی یہ پیغام جاتا ہے کہ خطے کی سالمیت اور امن کو خطرہ پہنچانے والے اقدامات کے نتائج سامنے آئیں گے۔
یو اے ای کا اسرائیل کو پہلا بڑا جھٹکا،دبئی ائیر شو میں اسرائیلی شرکت پر پابندی عائد
9