ڈھاکہ(ایگزو نیوز ڈیسک)بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے شہید رہنما عثمان ہادی کی دارالحکومت ڈھاکہ میں نماز جنازہ ادا کی گئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی اور جنازے میں بھارت مخالف نعرے بھی بلند کیے گئے۔ اس تاریخی موقع پر عوام نے شہید رہنما کے حق میں اور انصاف کے مطالبے پر زوردار نعرے لگائے،جنہوں نے نہ صرف ملکی سیاسی ماحول کو ہلا کر رکھ دیا بلکہ مودی سرکار کے لیے بھی ایک واضح پیغام بھیج دیا۔نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ،سیاسی رہنماوں،سماجی شخصیات اور مختلف طلبا تنظیموں کے نمائندوں کی موجودگی نے اس تقریب کی اہمیت کو اور بڑھا دیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق بنگلہ دیش میں طلبا تحریک کے شہید رہنما اور انقلابی منچو کے ترجمان عثمان ہادی کی نماز جنازہ دارالحکومت ڈھاکہ میں ادا کی گئی، جس میں لاکھوں افراد نے شرکت کی۔ نماز جنازہ میں عبوری حکومت کے سربراہ ڈاکٹر محمد یونس، کابینہ کے متعدد ارکان،سیاسی رہنماوں،سماجی شخصیات اور مختلف طلبا تنظیموں کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔نماز جنازہ دارالحکومت کے مانیک میا ایونیو سے متصل قومی پارلیمنٹ(جاتیہ سانگسد بھبن) کے ساوتھ پلازہ کے قریب ادا کی گئی۔جنازے سے قبل دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے لوگ چھوٹے اور بڑے جلوسوں کی صورت میں جنازہ گاہ پہنچے،جس کے باعث علاقے میں غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا۔شرکا نے شہید عثمان ہادی کے حق میں اور انصاف کے مطالبے کے لیے نعرے لگائے،جن میں ’ہم سب ہمیشہ ہادی بنیں گے،جدوجہد جاری رہے گی ‘ اور ’ہادی بھائی کا خون رائیگاں نہیں جانے دیں گے‘نمایاں تھے۔علاوہ ازیں نماز جنازہ میں بھارت مخالف نعرے بھی سنائی دیے۔امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی پولیس نفری اور بارڈر گارڈ بنگلا دیش(بی جی بی)کے دستے تعینات کیے گئے تھے۔ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق تقریباً ایک ہزار اہلکار باڈی وارن کیمروں سے لیس سیکیورٹی پر مامور تھے جبکہ بی جی بی کے 20 پلاٹون پارلیمنٹ اور اطراف کے حساس علاقوں میں تعینات رہے۔
حکومت کی جانب سے جنازے میں شریک افراد کو ہدایت دی گئی کہ وہ کسی قسم کا بیگ یا بھاری سامان ساتھ نہ لائیں اور پارلیمنٹ کے اطراف ڈرون اڑانے پر مکمل پابندی عائد کی گئی۔عثمان ہادی کو ان کے اہلخانہ کی خواہش کے مطابق ڈھاکہ یونیورسٹی کیمپس میں قومی شاعر قاضی نذرالاسلام کے مزار کے قریب سپرد خاک کیا گیا۔ یاد رہے کہ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو پرانا پلٹن کے علاقے میں رکشے پر سفر کے دوران سر میں گولی ماری گئی تھی۔ ابتدا میں انہیں ڈھاکہ میڈیکل کالج ہسپتال منتقل کیا گیا، بعد ازاں بہتر علاج کے لیے سنگاپور لے جایا گیا، جہاں 18 دسمبر کو وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ ان کا جسد خاکی جمعہ کی شام ڈھاکہ واپس پہنچایا گیا۔نماز جنازہ میں شریک افراد کی بڑی تعداد، نعرے بازی، سخت سیکیورٹی اور سیاسی و سماجی شخصیات کی موجودگی نے اسے بنگلہ دیش کی طلبا تحریک کی تاریخ کا ایک یادگار لمحہ بنا دیا، جس میں عوام کی شہادت پر غم اور انصاف کے مطالبے کا پیغام واضح طور پر سامنے آیا۔