Home » بلوچستان میں مطلوب 9 خواتین کے سر کی قیمت مقرر،معلومات دینے پر 15 لاکھ روپے تک انعام کا اعلان

بلوچستان میں مطلوب 9 خواتین کے سر کی قیمت مقرر،معلومات دینے پر 15 لاکھ روپے تک انعام کا اعلان

by ahmedportugal
22 views
A+A-
Reset

کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)بلوچستان حکومت نے کالعدم عسکریت پسند تنظیم سے وابستگی کے الزام میں مطلوب 9 خواتین کے بارے میں قابلِ اعتماد معلومات فراہم کرنے والوں کے لیے مجموعی طور پر 15 لاکھ روپے تک کے انعامات کا اعلان کردیا ہے۔صوبائی حکومت کے مطابق مطلوب خواتین بلوچستان کے مختلف علاقوں میں مبینہ طور پر امن و امان کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث رہی ہیں۔
حکومت بلوچستان کی جانب سے جاری تفصیلات کے مطابق مطلوب خواتین کا تعلق گوادر،جیوانی،تربت اور دشت سے بتایا گیا ہے۔فہرست میں حنیفاں بی بی،عائشہ، رقیہ،حفصہ،زہرہ،امینہ بانی،زرمین اور عزیزاں سمیت 9 خواتین شامل ہیں۔صوبائی حکومت کے مطابق فہرست میں شامل 8 خواتین کے بارے میں ایسی معلومات فراہم کرنے پر 10،10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے جو قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ان کی گرفتاری یا شناخت میں مدد دے سکیں جبکہ عزیزاں کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے کے لیے 15 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔حکام نے واضح کیا ہے کہ مطلوب افراد کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والوں کی شناخت مکمل طور پر خفیہ رکھی جائے گی۔حکومت کی جانب سے جاری کردہ پوسٹرز اور اعلانات میں شہریوں سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ تعاون کرنے کی اپیل بھی کی گئی ہے۔

بلوچستان حکومت کا موقف ہے کہ مطلوب خواتین مبینہ طور پر دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں میں کردار ادا کرنے کے علاوہ عام شہریوں کو ریاست مخالف تشدد کی طرف راغب کرنے اور ذہن سازی کی کوششوں میں بھی ملوث رہی ہیں۔حکومت کے مطابق دہشت گرد تنظیمیں خواتین کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرکے نہ صرف معاشرے کی حساس روایات سے فائدہ اٹھاتی ہیں بلکہ خواتین کے کردار کو بطور ڈھال بھی استعمال کرتی ہیں۔صوبائی حکومت نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بلوچ معاشرے میں خواتین کی عزت و حرمت کو بنیادی اہمیت حاصل ہے اور خواتین کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرنا بلوچ معاشرتی روایات کی عکاسی نہیں کرتا۔ حکومت کے مطابق عسکریت پسند تنظیمیں ان روایات کا استحصال کرتے ہوئے خواتین کو اپنی سرگرمیوں کا حصہ بناتی ہیں۔

حکومت بلوچستان نے مزید کہا کہ ریاست اور قانون کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے کسی بھی شخص کو قانون کا سامنا کرنا ہو گا،چاہے اس کا تعلق کسی بھی طبقے سے ہو اور وہ مرد ہو یا عورت۔ صوبائی حکومت کے مطابق دہشت گردی کے خلاف کارروائی میں قانون کا اطلاق بلاامتیاز کیا جائے گا۔صوبائی حکام نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ دہشت گرد تنظیموں کو خواتین کو بطور ڈھال استعمال کرکے قانونی کارروائی سے بچنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ عسکریت پسند عناصر بلوچ عوام کی نمائندگی کا دعویٰ نہیں کرسکتے اور تشدد کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے والوں کے خلاف ریاستی قانون کے مطابق کارروائی جاری رہے گی۔حکومت کی جانب سے مطلوب خواتین کے بارے میں انعامی اعلانات سامنے آنے کے بعد اب قانون نافذ کرنے والے اداروں اور متعلقہ حکام کی جانب سے فراہم کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر آئندہ کارروائی متوقع ہے۔حکومت نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی مطلوب فرد سے متعلق معلومات براہِ راست متعلقہ اداروں تک پہنچائیں اور خود کسی کارروائی کی کوشش نہ کریں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز