کوئٹہ(ایگزو نیوز ڈیسک)بلوچستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آ گیا۔ صوبے کے دو مختلف شہروں، کیچ اور چمن، میں جمعرات کو ہونے والے حملوں نے نہ صرف امن و امان پر سوالات اٹھا دیے بلکہ شہریوں میں خوف و ہراس بھی پھیلا دیا، دونوں واقعات میں مجموعی طور پر کئی افراد جاں بحق اورسیکیورٹی اہلکاروں سمیت متعدد زخمی ہوئے جبکہ ریاستی اداروں نے ان کارروائیوں کو صوبے میں سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس سے جوڑ کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق پہلا واقعہ ضلع کیچ کے علاقے دشت کھڈان میں پیش آیا، جہاں سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو خودکش حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ فرنٹیئر کور (ایف سی) کا قافلہ گوادر سے تربت کی طرف روانہ تھا کہ بارود سے بھری زمباد گاڑی نے قافلے کو نشانہ بنایا۔ دھماکے کے نتیجے میں قافلے کی دو گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور کم از کم 8 اہلکار زخمی ہوئے، جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے تربت منتقل کیا گیا۔ پولیس کے مطابق یہ خودکش حملہ تھا، تاہم حتمی تصدیق بم ڈسپوزل یونٹ کی رپورٹ کے بعد ہو گی۔ متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جس کے باعث ہلاکتوں کا خدشہ ہے۔اسی روز بلوچستان کے سرحدی شہر چمن میں بارڈر ٹیکسی اسٹینڈ پر ہونے والے دھماکے نے ایک اور سانحہ رقم کر دیا۔ اسسٹنٹ کمشنر کے مطابق دھماکے میں کم از کم 5 افراد جاں بحق اور 3 زخمی ہوئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق بارودی مواد مسافروں کے سامان میں چھپایا گیا تھا، جس کے پھٹنے سے جانی نقصان ہوا۔ جائے وقوعہ کو سیکیورٹی فورسز نے گھیرے میں لے لیا اور تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔حکومت بلوچستان نے دونوں واقعات کی تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کے مطابق ان حملوں کی نوعیت اور محرکات جاننے کے لیے جامع تحقیقات جاری ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملے صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں اور امن قائم رکھنے کی کوششوں کو سبوتاڑ کرنے کی کوشش ہیں۔یہ تازہ حملے اس حقیقت کو اجاگر کرتے ہیں کہ بلوچستان بدستور دہشت گردی کے سنگین خطرے سے دوچار ہے اور اس کے انسداد کے لیے مزید سخت، مربوط اور موثر حکمت عملی اپنانے کی فوری ضرورت ہے۔
بلوچستان لہو لہان،کیچ اور چمن میں دہشت گرد حملے،متعدد افراد جاں بحق،8سیکیورٹی اہلکار شدید زخمی
26