باجوڑ(ایگزو نیوز ڈیسک)ضلع باجوڑ میں ارکان اسمبلی،قومی مشران اور مقامی عمائدین پر مشتمل جرگے نے صوبے میں قیام امن کے لیے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہونے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔یہ تاریخی اعلان اس وقت سامنے آیا ہے جب ضم شدہ اضلاع میں امن و امان کی صورتحال نازک ہے اور قبائلی علاقوں کی ترقی و استحکام مسلسل چیلنجز کا شکار ہیں۔جرگے کے شرکاء نے نہ صرف امن قائم رکھنے کے لیے عملی تجاویز پیش کیں بلکہ مقامی عوام اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان اعتماد بڑھانے کے لیے بھی اپنا کردار یقینی بنانے کا وعدہ کیا۔وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے باجوڑ کے عوام کی حفاظت،متاثرہ گھروں کی بحالی اور تعلیمی و صحت کے شعبے میں فوری اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے یہ واضح کر دیا کہ صوبائی حکومت امن کے قیام اور ترقیاتی پروگراموں کے لیے ہر ممکن عملی اقدامات کرے گی اور کوئی بھی ناکام پالیسی اس راستے میں رکاوٹ نہیں بنے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق ضلع باجوڑ میں ارکان اسمبلی، قومی مشران اور قبائلی عمائدین پر مشتمل ایک اہم جرگے نے صوبے میں قیام امن کے لیے وزیراعلیٰ خیبر پختون خوا سہیل آفریدی کے ساتھ کھڑے ہونے اور مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ کے زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں نہ صرف امن و امان کی موجودہ صورتحال پر غور کیا گیا بلکہ پاک افغان تعلقات کی بہتری اور ترقیاتی منصوبہ بندی پر بھی تفصیلی بحث ہوئی۔اجلاس کے دوران باجوڑ جرگے نے وزیراعلیٰ پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا اور صوبائی حکومت کے امن اقدامات کے ساتھ مکمل تعاون کرنے کا اعلان کیا۔جرگے میں شرکا نے امن قائم رکھنے کے لیے عملی تجاویز بھی پیش کیں،جن میں قبائلی مشران کے کردار کو فعال بنانا،مقامی عوام کی شمولیت اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ ہم آہنگی شامل تھی۔وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اس موقع پر باجوڑ میں حالیہ آپریشن کے دوران جزوی متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے دی جانے والی مالی امداد کو 1 لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھا کر 5 لاکھ روپے کر دیا۔انہوں نے کہا کہ ضم شدہ اضلاع کے عوام اور قبائلی مشران نے امن قائم رکھنے کے لیے اپنی جانوں کے نذرانے دیے اور 2018ء میں قربانیوں کی بدولت ملک میں مکمل امن قائم ہوا تاہم انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور بند کمروں میں فیصلے صرف نقصان کا باعث بنتے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ امن قائم رکھنے کے لیے فیصلہ سازی میں قبائلی مشران اور عوام کو اعتماد میں لینا ضروری ہے،ہم کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنیں گے۔انہوں نے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کی قربانی اور تعاون کو قابل ستائش قرار دیا۔مالیاتی مسائل پر بات کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ فاٹا کے انضمام کے وقت وفاق کی طرف سے ہر سال 100 ارب روپے کے وعدے کیے گئے تھے لیکن گزشتہ سات سال میں صرف 168 ارب روپے جاری کیے گئے جبکہ 532 ارب روپے وفاق کی ذمہ داری میں بقایا ہیں،اے آئی پی کے تحت وفاقی حکومت فنڈز کی فراہمی میں ناکام رہی ہے۔وزیراعلیٰ نے ضم اضلاع میں پولیس میں بھرتیوں کے لیے عمر کی آخری حد بڑھانے کی ہدایت دی تا کہ مزید اہل امیدواروں کو سروس میں شامل کیا جا سکے۔علاوہ ازیں،باجوڑ کے شہداء پیکیج پر کام تیز کرنے اور امن قائم رکھنے میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی مشران کو سکیورٹی فراہم کرنے کی بھی ہدایت دی گئی۔تعلیمی اور صحت کے شعبے میں بھی اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ضم اضلاع کے لیے روشن قبائل پیکیج کے تحت موجود اسکولوں اور ہسپتالوں کو جدید اور فعال بنایا جائے گا تا کہ عوام کو معیار تعلیم اور صحت کی بہترین سہولت فراہم کی جا سکے۔اجلاس میں شریک رہنماوں نے وزیر اعلیٰ کے امن اقدامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ جرگے اور مقامی مشران عوام کو صوبائی حکومت کے امن پروگراموں سے جوڑنے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی کہ وہ امن قائم رکھنے،ترقیاتی منصوبوں کی کامیابی اور قومی مفاد میں ہر ممکن تعاون کریں گے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ فاٹا انضمام کے بعد صوبے میں امن قائم رکھنے کے لیے قبائلی مشران،عوام،پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے اپنی جانیں پیش کیں اور یہ قربانیاں ضم اضلاع کی ترقی اور قومی استحکام کے لیے لازمی تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے حکومتی اقدامات صرف بیانات تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عملی طور پر ہر سطح پر ان کی نگرانی کی جائے گی۔