Home » بیٹنگ ہو یا کپتانی؟فیصلہ صرف ٹیم کے مفاد میں،نوجوانوں کی سپورٹ،ڈسپلن پر زیرو سمجھوتہ،کپتان بابر اعظم کا مضبوط پیغام

بیٹنگ ہو یا کپتانی؟فیصلہ صرف ٹیم کے مفاد میں،نوجوانوں کی سپورٹ،ڈسپلن پر زیرو سمجھوتہ،کپتان بابر اعظم کا مضبوط پیغام

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے واضح کیا ہے کہ ان کی بیٹنگ ہو یا کپتانی،ہر فیصلہ ٹیم کے مفاد کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ دور کی بین الاقوامی کرکٹ میں کامیابی کے لیے نظم و ضبط، فٹنس اور کارکردگی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا جبکہ نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں بھرپور سپورٹ فراہم کرنا بھی ان کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیسٹ ٹیم کے کپتان بابر اعظم نے کہا ہے کہ بیٹنگ کے دوران ان کی اولین ترجیح ہمیشہ ٹیم کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ صورتحال کے مطابق اپنی حکمت عملی تبدیل کرتے ہیں،اگر ٹیم کو تیز رفتار بیٹنگ درکار ہو تو وہ جارحانہ انداز اپناتے ہیں جبکہ مشکل حالات میں دفاعی کھیل کو ترجیح دیتے ہیں۔بابر اعظم نے قومی ٹیم کی قیادت کو اپنے لیے اعزاز قرار دیا اور کہا کہ ماضی کے تجربات سے انہوں نے بہت کچھ سیکھا ہے،اس بار وہ بہتر منصوبہ بندی اور مثبت سوچ کے ساتھ ٹیم کی قیادت کریں گے تاکہ کارکردگی میں تسلسل لایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ کپتانی میں پختگی اور وضاحت آتی ہے اور بطور کپتان انہوں نے اپنے فیصلوں کا بارہا جائزہ لے کر ان سے سیکھنے کی کوشش کی۔بابر اعظم کا کہنا تھا کہ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ نوجوان کھلاڑیوں کو مشکل وقت میں بھرپور سپورٹ فراہم کی جائے کیونکہ بین الاقوامی کرکٹ دباو سے بھرپور ہوتی ہے۔

کپتان نے مزید کہا کہ وہ نوجوان کھلاڑیوں سے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں تاکہ ان پر دباو کم کیا جا سکے جبکہ ٹیم میں ڈسپلن،فٹنس اور کارکردگی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،نیشنل کرکٹ اکیڈمی کا ریڈ بال کیمپ ٹیم کی تیاری کے لیے انتہائی اہم ثابت ہوا جہاں کھلاڑیوں کو مشکل حالات میں کھیلنے کی تربیت دی گئی۔بابر اعظم نے کہا کہ کیمپ کے دوران میچ کے دباو اور مختلف صورتحال سے نمٹنے کی بھرپور مشق کی گئی،جو آنے والے دوروں میں ٹیم کے لیے مددگار ثابت ہوگی۔انہوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف آئندہ سیریز کو چیلنجنگ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹیم اس کے لیے مکمل طور پر تیار ہے جبکہ انگلینڈ میں کاونٹی کرکٹ کھیلنے والے کھلاڑیوں کا تجربہ بھی فائدہ دے گا۔انہوں نے مثبت تنقید کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ تعمیری آراء کو سنتے ہیں اور ان پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بابر اعظم کے مطابق کرکٹ میں نتائج فوری نہیں آتے بلکہ اس کے لیے مستقل مزاجی اور مضبوط روٹین ضروری ہوتی ہے۔انہوں نے شائقین کی توقعات کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم ان پر پورا اترنے کے لیے بھرپور محنت کر رہی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز