اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)نیپال میں حالیہ سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ سے ہونے والی تباہی کے بعد بلغاریہ کی معروف پراسرار شخصیت بابا وانگا سے منسوب 2026 کی پیش گوئیاں ایک مرتبہ پھر سوشل میڈیا پر تیزی سے گردش کرنے لگی ہیں۔ان دعووں میں دنیا کے مختلف حصوں میں قدرتی آفات،بڑی طاقتوں کے درمیان ممکنہ جنگ، عالمی معاشی بحران،مصنوعی ذہانت کے خطرناک حد تک طاقتور ہونے اور نومبر 2026 میں مبینہ طور پر ایک بہت بڑے خلائی جہاز کے زمین کے قریب آنے سمیت کئی حیران کن باتیں شامل ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی پوسٹس اور بعض میڈیا رپورٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ 2026 دنیا کے لیے غیر معمولی اور ہنگامہ خیز سال ثابت ہوسکتا ہے۔ تاہم ان دعووں کے ساتھ ایک بنیادی حقیقت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا کہ بابا وانگا سے منسوب پیش گوئیوں کا کوئی ایسا مکمل، مستند اور قابلِ تصدیق تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں جس کی بنیاد پر ان تمام باتوں کو ان کے اصل الفاظ یا باقاعدہ پیش گوئی قرار دیا جاسکے۔اسی وجہ سے ان دعووں کو مستقبل کے یقینی واقعات کے بجائے غیرمصدقہ روایات، بعد میں سامنے آنے والی تشریحات اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی نسبتوں کے طور پر دیکھنا زیادہ محتاط صحافتی رویہ ہوگا۔
نیپال میں قدرتی آفت کے بعد بابا وانگا کا نام دوبارہ اس لیے نمایاں ہوا کیونکہ ان سے منسوب بعض پیش گوئیوں میں 2026 کے دوران دنیا کے مختلف خطوں میں شدید قدرتی آفات کا ذکر کیا جاتا ہے۔انٹرنیٹ پر گردش کرنے والے دعووں میں زلزلوں،سیلاب،شدید طوفانوں اور آتش فشانی سرگرمیوں جیسے واقعات کو ممکنہ خطرات کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے تاہم کسی بڑے قدرتی حادثے کے رونما ہونے کے بعد اسے پہلے سے کی گئی کسی مبہم پیش گوئی سے جوڑ دینا اس بات کا ثبوت نہیں ہوتا کہ واقعے کی حقیقتاً درست پیش گوئی کی گئی تھی۔قدرتی آفات کے بارے میں سائنسی ادارے موسمی،ارضیاتی اور دیگر سائنسی اعداد و شمار کی بنیاد پر خطرات کا جائزہ لیتے ہیں جبکہ کسی مبہم بیان کو بعد میں کسی مخصوص واقعے کے ساتھ منسلک کرنا الگ معاملہ ہے۔
بابا وانگا سے منسوب 2026 کی پیش گوئیوں میں سب سے زیادہ تشویش پیدا کرنے والا دعویٰ تیسری عالمی جنگ سے متعلق ہے۔سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی معلومات کے مطابق بڑی عالمی طاقتوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کسی بڑے عالمی تنازعے کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔،امریکہ ،اسرائیل، ایران جبکہ روس اور مغربی ممالک کے درمیان اختلافات،چین اور تائیوان کے معاملے پر کشیدگی اور مشرق وسطیٰ میں جاری تنازعات کو بھی بعض افراد ان دعووں کے ساتھ جوڑ رہے ہیں تاہم موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی کو کسی مبینہ پیش گوئی کے درست ثابت ہونے کا ثبوت قرار دینا درست نہیں ہوگا۔عالمی سیاست میں حالات مسلسل تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور کسی بڑی جنگ کے آغاز کی قطعی تاریخ یا نتیجے کی پیش گوئی کرنا انتہائی پیچیدہ معاملہ ہے۔ان پیش گوئیوں میں سب سے زیادہ حیرت انگیز دعویٰ نومبر 2026 میں مبینہ طور پر ایلین یا غیر زمینی مخلوق سے انسانوں کے رابطے کا ہے۔سوشل میڈیا پوسٹس میں کہا جا رہا ہے کہ نومبر کے آس پاس ایک بہت بڑا خلائی جہاز زمین کے قریب آسکتا ہے اور انسانوں کا ممکنہ طور پر کسی غیر زمینی زندگی سے سامنا ہوسکتا ہے۔
یہ دعویٰ اگرچہ سوشل میڈیا صارفین میں خاصی دلچسپی پیدا کررہا ہے تاہم اس کی تائید میں فی الحال کوئی ایسا معتبر سائنسی ثبوت موجود نہیں جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ نومبر 2026 میں کوئی خلائی جہاز یا ایلین زمین پر آنے والے ہیں۔ماہرین عام طور پر یہ واضح کرتے رہے ہیں کہ خلا میں مشاہدہ ہونے والی کسی نامعلوم شے کو فوری طور پر غیر زمینی مخلوق سے منسوب نہیں کیا جاسکتا۔کوئی غیر معمولی خلائی شے سیٹلائٹ،خلائی ملبہ،قدرتی جسم یا انسان کی تیار کردہ کوئی دوسری چیز بھی ہوسکتی ہے۔اس لیے اس نوعیت کے دعووں کو ثبوت کے بغیر حقیقت سمجھنا سائنسی اعتبار سے درست نہیں۔
مصنوعی ذہانت کے حوالے سے بھی بابا وانگا کے نام سے ایک دعویٰ سوشل میڈیا پر گردش کر رہا ہے۔اس کے مطابق 2026 میں مصنوعی ذہانت اتنی طاقتور ہوسکتی ہے کہ انسانوں کے لیے اس پر کنٹرول برقرار رکھنا مشکل ہوجائے۔یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ مصنوعی ذہانت غیر معمولی رفتار سے ترقی کررہی ہے اور دنیا بھر میں اس کے ممکنہ فوائد کے ساتھ ساتھ روزگار،غلط معلومات،سائبر سکیورٹی،رازداری اور انسانی کنٹرول جیسے معاملات پر سنجیدہ بحث جاری ہے تاہم AI کی تیز رفتار ترقی کو بابا وانگا سے منسوب کسی مبینہ پیش گوئی کے ساتھ جوڑنا دو مختلف معاملات ہیں۔ٹیکنالوجی کے مستقبل کے بارے میں ماہرین مختلف امکانات پیش کرسکتے ہیں لیکن کسی مخصوص سال میں کوئی خاص واقعہ لازماً پیش آنے کی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔
عالمی معیشت کے حوالے سے بھی بابا وانگا سے منسوب دعووں میں بڑے مالی بحران کا ذکر کیا جاتا ہے۔بعض پوسٹس میں بینکاری نظام پر دباو،کرنسیوں کی قدر میں کمی،عالمی معاشی بے یقینی اور قیمتی دھاتوں کی قیمتوں میں اضافے کو ایک ممکنہ بڑے مالی بحران سے جوڑا گیا ہے۔دنیا کی مالی منڈیوں میں اتار چڑھاو معمول کا حصہ ہے اور شرح سود،مہنگائی،جنگی صورتحال، عالمی تجارت،سرمایہ کاری،توانائی کی قیمتوں اور حکومتی پالیسیوں سمیت متعدد عوامل مارکیٹ کی سمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ چنانچہ کسی معاشی تبدیلی یا مارکیٹ کے اتار چڑھاو کو محض ایک مبینہ پیش گوئی کے سچ ہونے کا ثبوت قرار نہیں دیا جاسکتا۔روس کی سیاست کے حوالے سے بھی ایک دعویٰ سامنے آتا ہے کہ 2026 کے اختتام تک صدر ولادیمیر پوتن کے اقتدار میں بڑی تبدیلی آسکتی ہے اور روس کو نئی قیادت مل سکتی ہے تاہم اس دعوے کی بھی کوئی ایسی مستند بنیاد سامنے نہیں آئی جس سے اس کی تصدیق ہوسکے۔کسی بھی ملک میں اقتدار کی تبدیلی سیاسی حالات،آئینی تقاضوں،انتخابات، حکومتی فیصلوں اور دیگر متعدد عوامل پر منحصر ہوتی ہے۔اس لیے روس کے مستقبل کے سیاسی منظرنامے سے متعلق کسی غیرمصدقہ دعوے کو حتمی پیش گوئی سمجھنا قبل از وقت ہوگا۔
بابا وانگا،جن کا اصل نام وانگیلیا پانڈیوا گشتروفا بتایا جاتا ہے،1911 میں بلغاریہ میں پیدا ہوئی تھیں۔وہ ایک روحانی اور پراسرار شخصیت کے طور پر شہرت رکھتی تھیں۔ان کے بارے میں مشہور ہے کہ کم عمری میں ان کی بینائی ختم ہوگئی تھی اور بعد ازاں ان کے بارے میں مستقبل کے واقعات دیکھنے کی صلاحیت رکھنے کی کہانیاں عام ہوئیں۔ان کے مداح اور حامی دنیا کے کئی بڑے واقعات،جن میں نائن الیون کے حملے،چرنوبل حادثہ، شہزادی ڈیانا کی موت اور 2004 کا بحر ہند سونامی شامل ہیں،کو ان سے منسوب پیش گوئیوں کے ساتھ جوڑتے ہیں تاہم مسئلہ یہ ہے کہ ان دعووں کی تصدیق کے لیے بابا وانگا کے اپنے الفاظ پر مشتمل مکمل،منظم اور مستند تحریری ریکارڈ دستیاب نہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے نام سے گردش کرنے والی کئی پیش گوئیوں کی نسبت پر سوالات اٹھتے رہے ہیں۔
ماہرین اور ناقدین کے نزدیک ایسی پیش گوئیوں کا ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ اکثر مبہم جملوں کو کسی واقعے کے رونما ہونے کے بعد اس کے ساتھ جوڑ دیا جاتا ہے۔ یوں ایک عمومی بات مخصوص واقعے کی پیش گوئی محسوس ہونے لگتی ہے حالانکہ واقعے سے پہلے اس کی واضح اور قابلِ تصدیق نشاندہی موجود نہیں ہوتی۔2026 کے حوالے سے بابا وانگا کے نام سے پھیلائی جانے والی معلومات بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہئیں۔قدرتی آفت ہو،عالمی سیاسی کشیدگی،معاشی بحران،مصنوعی ذہانت کی ترقی یا خلا سے متعلق کوئی غیر معمولی خبر،کسی بھی دعوے کو سچ ماننے سے پہلے اس کے اصل ماخذ،تاریخی حوالوں اور سائنسی یا سرکاری شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے لہٰذا نومبر 2026 میں ایلین کے آنے،تیسری عالمی جنگ شروع ہونے،روس میں اقتدار کی تبدیلی یا دنیا میں کسی مخصوص نوعیت کی تباہی کے دعووں کو فی الحال حتمی پیش گوئی نہیں بلکہ غیرمصدقہ معلومات کے طور پر ہی دیکھنا چاہیے۔2026 میں حقیقتاً کیا ہو گا؟اس کا فیصلہ سوشل میڈیا کی وائرل پوسٹس نہیں بلکہ آنے والا وقت اور قابلِ تصدیق حقائق کریں گے۔