Home » دھاندلی کے الزامات بے بنیاد،ثبوت کہاں ہیں؟عظمیٰ بخاری نے پیپلزپارٹی کے دعووں کو چیلنج کر دیا،اعداد و شمار کے ساتھ ایسا جواب کہ شرجیل میمن بھی سر پکڑ لیں

دھاندلی کے الزامات بے بنیاد،ثبوت کہاں ہیں؟عظمیٰ بخاری نے پیپلزپارٹی کے دعووں کو چیلنج کر دیا،اعداد و شمار کے ساتھ ایسا جواب کہ شرجیل میمن بھی سر پکڑ لیں

by ahmedportugal
25 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات کے بعد سامنے آنے والے دھاندلی کے الزامات پر سیاسی محاذ آرائی میں شدت آ گئی ہے، جہاں پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نےپیپلز پارٹی کے دعووں کو براہِ راست چیلنج کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔انہوں نے موقف اختیار کیا کہ الزامات کے برعکس اب تک الیکشن کمیشن میں کسی بھی جماعت کی جانب سے نہ تو ٹھوس شواہد پیش کیے گئے ہیں اور نہ ہی دوبارہ گنتی کی کوئی باضابطہ درخواست دائر کی گئی ہے، جس سے ان دعووں کی ساکھ پر سوالات اٹھتے ہیں۔عظمیٰ بخاری نے مختلف حلقوں کے انتخابی نتائج اور اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حقائق خود ان الزامات کی نفی کرتے ہیں اور محض بیانات کے ذریعے انتخابی عمل کو متنازع بنانا عوام کو گمراہ کرنے کے مترادف ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے آزاد کشمیر کے حالیہ انتخابات سے متعلق پیپلز پارٹی کے الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتخابی عمل کو متنازع بنانے کے لیے بے بنیاد دعوے کیے جا رہے ہیں تاہم اب تک کسی بھی جماعت کی جانب سے الیکشن کمیشن میں ٹھوس شواہد یا دوبارہ گنتی کی کوئی باضابطہ درخواست جمع نہیں کرائی گئی۔انہوں نے کہا کہ بعض سیاسی رہنماوں نے نتائج سامنے آنے سے قبل ہی دھاندلی کے الزامات لگانا شروع کر دیے،جو محض سیاسی بیانیہ بنانے کی کوشش ہے،اگر واقعی بے ضابطگیاں ہوئیں تو متعلقہ فورمز پر ثبوت پیش کیے جانے چاہئیں،محض میڈیا پر بیانات دینے سے حقائق تبدیل نہیں ہوتے۔عظمیٰ بخاری نے دعویٰ کیا کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پیش کیے گئے کئی الزامات میں تضاد پایا جاتا ہے جبکہ مبینہ طور پر پیش کیے گئے واقعات، جیسے فائرنگ یا زخمی ہونے کے دعوے، کے حوالے سے نہ تو کوئی مستند پولیس رپورٹ سامنے آئی ہے اور نہ ہی کوئی طبی ریکارڈ موجود ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ انتخابی عمل کے دوران کسی رکنِ اسمبلی کو پولنگ سٹیشن کے اندر جانے کی اجازت نہیں تھی اور تمام ذمہ داریاں صرف پولنگ کیمپوں تک محدود تھیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی جماعت کے پولنگ ایجنٹس کو نکالے جانے کے دعوے درست ہیں تو انہیں قانونی طریقہ کار اختیار کرنا چاہیے تھا،انتخابی عمل کے دوران بعض مقامات پر غیر معمولی صورتحال ضرور پیش آ سکتی ہے تاہم انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرنا مناسب نہیں۔

وزیر اطلاعات نے مختلف حلقوں کے نتائج کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کئی نشستوں پر واضح برتری حاصل ہوئی،ایل اے 45 سے اٹھارہ ہزار کی لیڈ ہے،ایل اے 36 پندرہ ہزار،ایل اے 39 سات ہزار،ایل اے 37، 30 اور 25 سے چھ چھ ہزار،ایل اے 38 چار ہزار،ایل اے 32 دو ہزار،ایل اے 44 پندرہ سو،ایل اے 31 تیرہ سو،ایل اے 42 اور 43 سے ایک ایک ہزار اور ایل اے 34 میں چھ سو کی لیڈ ہے،اگر دھاندلی ہم نے کرنی تھی تو اس کو بھی کر لیتے،کوئی دس ہزار تو بڑھا ہی لیتے،مطلب کوئی نمبر ہی ٹنگ جاتے کہ ہم نے دھاندلی کر لی،اگر ہم نے دھاندلی کرنی ہوتی تو نتائج کا مارجن بھی مختلف ہوتا،اس لیے ایسے الزامات زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ مخالف جماعت کے بعض افراد پولنگ سٹیشنز پر غیر معمولی طریقے سے داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے،جس پر عوامی ردعمل بھی سامنے آیا،ایسے واقعات کو بھی سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ ملک میں یہ روایت بنتی جا رہی ہے کہ شکست کے بعد دھاندلی کا الزام لگا دیا جاتا ہے،حالانکہ اگر ٹھوس شواہد موجود ہوں تو الیکشن کمیشن کارروائی کرتا ہے،جیسا کہ ماضی میں بعض علاقوں میں دوبارہ پولنگ کے فیصلے کیے گئے۔انہوں نے مزید کہا کہ سیاسی قیادت کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کو تسلیم کرنا چاہیے اور عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے مثبت سیاست کو فروغ دینا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ ہم برملا کہتے ہیں کہ ہم کشمیر کو پنجاب بنائیں گے،بلاول بھٹو کا یہ نہ کہنا کہ ہم کشمیر کو سندھ بنائیں گے،خود اپنی سندھ حکومت کے خلاف چارج شیٹ ہے،قمر زمان کائرہ ایک اچھے انسان اور سیاستدان ہیں جن کے حلقے کے نتائج اور سوشل میڈیا پر ان کے ووٹوں کی تعداد پر سوالات اٹھائے گئے پیپلز پارٹی کی اصل گراونڈ ریلیٹی یہی ہے لیکن پنجاب کے کچھ ہارے ہوئے اور ریجیکٹڈ سیاستدان ملک میں فساد،لڑائی جھگڑا اور اینٹ پتھر چلنے کی کیفیت دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں اسی میں سکون ملتا ہے،معقول بات کرنے والوں کی بات سنی نہیں جاتی اور گراونڈ ریلیٹیز بلاول بھٹو زرداری تک نہیں پہنچتی،یہی وجہ ہے کہ سندھ کے لوگوں کو اشتہاروں کے ذریعے کارکردگی بتانی پڑتی ہے اور وہ یہاں آ کر پنجاب کی ترقی سے متاثر ہونے کا کہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میں بلاول بھٹو صاحب کو سیف ایگزٹ دینا چاہتی ہیں کیونکہ انہیں غلط رپورٹیں دی جاتی ہیں اور وہ ان پر یقین کر کے ویڈیو بیان جاری کر دیتے ہیں لوکل قیادت اپنی غلطیاں چھپانے کے لیے انہیں غلط معلومات اور گمراہ کن بیانات دلاتی ہے۔ایک سوال کے جواب میں عظمی بخاری کا کہنا تھا کہ محسن نقوی نے غیر سنجیدگی کے ساتھ گفتگو کی،جس نظام کا وہ خود حصہ ہیں اور جس نظام میں انہوں نے اتنی ترقی کی کہ اوپر تک پہنچ گئے،اسی نظام کو وہ ناکام قرار دے رہے ہیں،اس نظام کا جو حصہ انہیں سونپا گیا ہے،وہ تباہی کا شاہکار بن چکا ہے،یہ سراسر غیر سنجیدگی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز