اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپوزیشن کی جانب سے تحریک عدم اعتماد لانے کے امکان پر حکومت کی پوزیشن واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم یا سپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنا اپوزیشن کا آئینی،سیاسی اور جمہوری حق ہے،اگر اپوزیشن ایسی تحریک لاتی ہے تو اسے ایوان میں اپنا آئینی راستہ اختیار کرنے کی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ایگزو نیوز کے مطابق پارلیمنٹ ہاوس کے احاطے میں شجرکاری مہم کے آغاز کے موقع پر زیتون کا پودا لگانے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ سیاسی معاملات کا حل مذاکرات کے ذریعے ہی نکالا جاسکتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اپوزیشن کو بات چیت کے لیے متعدد مرتبہ دعوت دی تاہم اب اگر اپوزیشن مذاکرات کے لیے آنا چاہے گی تو خود آئے گی۔ایاز صادق نے واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے سیاسی رابطوں اور مذاکرات کی کوششیں جاری رہی ہیں، اپوزیشن اگر تحریک عدم اعتماد پیش کرتی ہے تو اسے روکنے کی کوئی وجہ نہیں،کیونکہ یہ اس کا سیاسی اور جمہوری حق ہے۔انہوں نے کہا کہ ایسی تحریک سامنے آنے کی صورت میں قانون اور آئین کے مطابق کارروائی ہوگی اور اپوزیشن کو مکمل سہولت دی جائے گی۔
قومی اسمبلی کے اجلاس اور پارلیمانی ماحول کے حوالے سے سپیکر نے کہا کہ ایوان کی کارروائی اور سیشنز کی کارکردگی میں بتدریج بہتری آرہی ہے،کورم پورا کرنا صرف سپیکر کی ذمہ داری نہیں بلکہ حکومت اور اپوزیشن دونوں پر لازم ہے کہ وہ پارلیمنٹ میں اپنی حاضری یقینی بنائیں۔انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں ارکان کی غیرحاضری سے نہ صرف قانون سازی متاثر ہوتی ہے بلکہ عوامی مسائل پر بحث اور مختلف معاملات پر ارکان کی آواز بھی کمزور پڑتی ہے،پارلیمنٹ عوامی نمائندگی کا بنیادی فورم ہے اور اسے خالی چھوڑنا کسی صورت مناسب نہیں۔
ایاز صادق نے اپوزیشن کی پارلیمانی سرگرمیوں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف اگر ایوان میں فعال کردار ادا کرے گی تو اس سے حکومت کا احتساب بہتر انداز میں ہوگا،اصلاح کی گنجائش پیدا ہوگی اور حکومت کو اپنے فیصلوں اور پالیسیوں کا زیادہ موثر جواب دینا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں موجود ہر رکن اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتا ہے اور اسے اپنے علاقے کے مسائل ایوان میں اٹھانے کا موقع ملنا چاہیے،پارلیمنٹ کو موثر بنانے کے لیے حکومت اور اپوزیشن دونوں کا فعال کردار ضروری ہے۔پی ٹی آئی کے پارلیمانی کردار کے حوالے سے سوال پر سپیکر قومی اسمبلی نے بتایا کہ تحریک انصاف کے قائمہ کمیٹیوں سے متعلق استعفے تاحال انہوں نے منظور نہیں کیے،میری خواہش ہے کہ پی ٹی آئی کے ارکان کے استعفے قبول نہ کیے جائیں تاکہ وہ پارلیمانی کمیٹیوں میں اپنا کردار ادا کرتے رہیں۔سپیکر قومی اسمبلی نے حالیہ اپوزیشن اتحاد کے حوالے سے بھی مثبت ردعمل کا اظہار کیا۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کا قانون سازی کے حوالے سے پارلیمنٹ میں اتحاد ایک اچھی پیش رفت ہے اور اس سے ایوان کی کارروائی میں سیاسی و پارلیمانی سرگرمی مزید بڑھ سکتی ہے۔
دوسری جانب مشترکہ اپوزیشن کی جانب سے پارلیمنٹ میں اپنی سرگرمیاں منظم کرنے کا عمل بھی تیز ہوگیا ہے۔گزشتہ روز ہونے والے مشترکہ اپوزیشن کے پہلے پارلیمانی اجلاس میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی مختلف جماعتوں کے قائدین اور پارلیمانی نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس میں ملک کی سیاسی و معاشی صورتحال، امن و امان،عدالتی معاملات اور پارلیمنٹ کے اندر مشترکہ حکمت عملی سمیت مختلف امور پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔اپوزیشن جماعتوں نے پارلیمان کے اندر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے اور مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے پر اتفاق کیا۔
اجلاس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا تھا کہ موجودہ حالات میں اپوزیشن ارکان کا ایک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھا ہونا اہم پیش رفت ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ اپوزیشن کا یہ اتحاد ملک کی سیاسی صورتحال میں مثبت کردار ادا کرے گا۔جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی مشترکہ اپوزیشن کے قیام کو اہم پیش رفت قرار دیا اور کہا کہ حزب اختلاف کی نشستوں پر موجود جماعتوں نے مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔یوں ایک جانب حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جارہا ہے تو دوسری جانب مشترکہ اپوزیشن کی پارلیمانی صف بندی بھی واضح طور پر سامنے آرہی ہے۔ایسے میں سپیکر ایاز صادق کا تحریک عدم اعتماد کو اپوزیشن کا جمہوری حق قرار دینا اور اسے سہولت فراہم کرنے کا اعلان قومی اسمبلی میں آئندہ سیاسی سرگرمیوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جارہا ہے۔