اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان اور آسٹریا کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون کے نئے امکانات اس وقت سامنے آئے جب آسٹریا کے سفیر نے لاہور میں نیشنل گرڈ کمپنی( این جی سی) ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا اور منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک سے اہم ملاقات کی۔اس ملاقات میں ہائیڈرو پاور اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں پر مشترکہ پیش رفت،سرمایہ کاری کے مواقع اور مستقبل کی حکمت عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا،جسے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سفارتی اور تکنیکی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پاکستان میں آسٹریا کے سفیر مسٹر وولف گینگ اولیور کوچیرا نے لاہور میں این جی سی ہیڈکوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے منیجنگ ڈائریکٹر انجینئر الطاف حسین ملک سے اہم ملاقات کی۔ملاقات میں توانائی کے شعبے خصوصاً ہائیڈرو پاور میں دوطرفہ تعاون کے فروغ، سرمایہ کاری کے امکانات اور مستقبل کی مشترکہ حکمتِ عملی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔این جی سی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے آسٹرین سفیر اور اینڈریٹز ہائیڈرو کے وفد کا پرتپاک استقبال کیا اور پاکستان کے توانائی شعبے میں ان کی طویل شراکت کو سراہا۔اینڈریٹز ہائیڈرو کو ہائیڈرو پاور انجینئرنگ کے میدان میں عالمی سطح پر ایک نمایاں اور تجربہ کار کمپنی قرار دیا جاتا ہے جو پاکستان میں مختلف منصوبوں پر پہلے ہی کام کر رہی ہے۔ملاقات کے دوران اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پاکستان کے بڑھتے ہوئے توانائی تقاضوں کو پورا کرنے اور قابلِ تجدید توانائی کے اہداف حاصل کرنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داری ناگزیر ہے۔اس حوالے سے این جی سی نے توانائی کے شعبے میں عالمی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آسٹریا کے سفیر نے اس موقع پر کہا کہ ان کا ملک پاکستان کے توانائی شعبے کی ترقی میں بھرپور تعاون جاری رکھے گا اور ہائیڈرو پاور سمیت قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں شراکت داری کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔انجینئر الطاف حسین ملک نے آسٹرین سفیر اور وفد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے روابط دونوں ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کریں گے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ این جی سی مستقبل میں بھی عالمی شراکت داروں کے ساتھ قریبی روابط اور تعاون کے تسلسل کو برقرار رکھے گی۔دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ توانائی کے شعبے میں مشترکہ کوششیں نہ صرف پاکستان کے ترقیاتی اہداف کو تقویت دیں گی بلکہ خطے میں پائیدار توانائی کے مستقبل کی بنیاد بھی فراہم کریں گی۔