سڈنی(ایگزو نیوز ڈیسک)آسٹریلیا کے نوجوان فٹبالر ٹیٹے ینگی نے طویل فکری اور روحانی سفر کے بعد اسلام قبول کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ 25 سالہ کھلاڑی کے مطابق ان کا یہ فیصلہ کسی وقتی جذبے کا نتیجہ نہیں بلکہ مطالعے، غور و فکر اور ذاتی تجربات پر مبنی ایک سوچا سمجھا قدم ہے،جس کے بعد انہیں دلی سکون محسوس ہو رہا ہے۔ٹیٹے ینگی نے بتایا کہ مسجد کے ماحول،مسلمانوں کی عبادات اور علمائے دین سے گفتگو نے انہیں اسلام کو قریب سے سمجھنے کا موقع فراہم کیا، جس کے بعد انہوں نے کلمہ شہادت پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہونے کا فیصلہ کیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق آسٹریلیا کے معروف 25 سالہ فٹبالر ٹیٹے ینگی نے اسلام قبول کر لیا ہے۔نوجوان کھلاڑی نے مسجد میں کلمہ شہادت پڑھ کر اپنے روحانی سفر کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا جبکہ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ کسی وقتی جذبے یا اچانک کیفیت کا نتیجہ نہیں بلکہ طویل فکری اور ذاتی جستجو کے بعد کیا گیا ہے۔ٹیٹے ینگی نے اپنے اسلام قبول کرنے کے تجربے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اسلام کی جانب سفر وقت کے ساتھ مطالعے،غور و فکر اور مختلف تجربات کے ذریعے آگے بڑھا۔انہوں نے کہا کہ ابتدا میں وہ صرف تجسس کے باعث آسٹریلوی شہر ایڈیلیڈ کی ایک مسجد گئے تھے تاکہ مسلمانوں کے عبادتی ماحول کو قریب سے سمجھ سکیں۔فٹبالر کے مطابق مسجد کے دورے کے دوران ان کی ملاقات معروف عالم دین مفتی اسماعیل مینک سے ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ نماز جمعہ کے بعد ہونے والی گفتگو کے دوران مفتی اسماعیل نے ان سے دریافت کیا کہ کیا انہوں نے کبھی کلمہ شہادت پڑھا ہے،جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ اس سے قبل کلمہ نہیں پڑھ چکے۔ٹیٹے ینگی نے بتایا کہ اس موقع پر انہیں اسلام کے بارے میں مزید جاننے اور کلمہ شہادت پڑھنے کی دعوت دی گئی،جسے انہوں نے خوشی اور اطمینان کے ساتھ قبول کیا۔بعد ازاں انہوں نے مسجد میں ہی کلمہ پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔
آسٹریلوی فٹبالر کا کہنا تھا کہ ان کا یہ فیصلہ کسی ایک واقعے یا لمحاتی کیفیت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ ایک طویل عرصے تک جاری رہنے والے غور و فکر،سوالات اور روحانی تلاش کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے بارے میں ان کی دلچسپی وقت کے ساتھ بڑھتی گئی اور بالآخر انہوں نے مکمل یقین اور اطمینان کے ساتھ یہ قدم اٹھایا۔ٹیٹے ینگی نے کہا کہ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ دلی سکون اور اطمینان محسوس کر رہے ہیں۔یہ فیصلہ ان کی ذاتی زندگی کا ایک اہم مرحلہ ہے،جسے انہوں نے پوری سوچ بچار اور اندرونی یقین کے ساتھ اختیار کیا ہے۔