لندن (ایگزو نیوز ڈیسک)برطانیہ میں صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے درمیان کشیدگی نے نیا رخ اختیار کر لیا، لندن پولیس نے وزیر داخلہ محسن نقوی کے چینل سے وابستہ رپورٹر اسد ملک کو دوبارہ حراست میں لے لیا، گرفتاری خاتون صحافی سفینہ خان کی درخواست پر عمل میں آئی، جنہوں نے الزام لگایا کہ اسد ملک نے ان کے ساتھ ساتھ کئی دیگر افراد کو بھی سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، جارحانہ رویہ اپنایا اور فحش زبان استعمال کی۔
ایگزو نیوز کے مطابق لندن کی فضاوں میں پاکستانی میڈیا کی جنگ ایک نئے موڑ پر پہنچ گئی ہے، جب محسن نقوی کے چینل سے وابستہ رپورٹر اسد ملک کو ایک مرتبہ پھر پولیس نے حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاری خاتون صحافی سفینہ خان کی درخواست پر عمل میں آئی جنہوں نے اسد ملک پر نہ صرف جان سے مارنے کی دھمکیاں دینے بلکہ فحش اور شرمناک زبان استعمال کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے، معاملے نے لندن میں موجود پاکستانی صحافیوں کے درمیان جاری رسہ کشی کو ایک بار پھر شہ سرخیوں میں لا کھڑا کیا ہے، جس نے صحافت کی ساکھ اور پیشہ ورانہ اقدار پر گہرے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ذرائع کے مطابق لندن پولیس نے کارروائی کے بعد اسد ملک کو حراست میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ درخواست گزار سفینہ خان کا کہنا تھا کہ اسد ملک اور اس کے قریبی ساتھی اے آر وائی کے رپورٹر اور ٹک ٹاکر فرید قریشی جعلی سمز کے استعمال اور جھوٹی ویڈیوز کے ذریعے پروپیگنڈا کرنے کے لیے بدنام ہیں، یہ عمل صحافت کے وقار کو مجروح کرنے اور افراد کو بدنام کرنے کی منظم کوشش ہے۔لندن میں موجود میڈیا حلقوں نے واقعے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ایسے اقدامات برطانوی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دھمکیوں اور ہراسانی کے الزامات ثابت ہو گئے تو ملزمان کو سخت سزاوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔یہ معاملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پاکستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں کے گروپس کے درمیان لندن میں پہلے ہی سخت رقابت اور اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اسد ملک کی گرفتاری نے ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیا ہے کہ بیرون ملک صحافت کے نام پر ہونے والی سرگرمیوں میں کس حد تک پروفیشنل ازم موجود ہے اور یہ جھگڑے پاکستان کی ساکھ کو کس قدر نقصان پہنچا رہے ہیں۔
لندن میں محسن نقوی کے چینل کے رپورٹر اسد ملک دوبارہ گرفتار،خاتون صحافی سفینہ خان کے سنگین اور شرمناک الزامات
9