اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)اسلام آباد ہائیکورٹ کے پانچ ججز اور چیف جسٹس کے درمیان جاری کشیدگی نے ایک نیا رخ اختیار کر لیا ہے۔ جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس سمن رفعت امتیاز نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے گیارہ بڑی آئینی استدعائیں دائر کر دی ہیں،جنہوں نے عدلیہ کے اندر طاقت کے توازن اور انتظامی اختیارات پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز اور چیف جسٹس کے درمیان جاری کشمکش ایک سنگین موڑ پر پہنچ گئی ہے۔ پانچ ججز جسٹس طارق محمود جہانگیری، جسٹس محسن اختر کیانی، جسٹس بابر ستار، جسٹس اعجاز اسحاق اور جسٹس سمن رفعت امتیاز نے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے 11 بڑے مطالبات پیش کر دیے ہیں جو براہِ راست چیف جسٹس کے اختیارات کو چیلنج کرتے ہیں اور ان مطالبات نے ملکی نظام عدل میں تہلکہ برپا کر دیا ہے۔پانچوں ججز نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ ہائیکورٹ کا چیف جسٹس اپنی انتظامی طاقت کو ججوں کے عدالتی اختیارات پر حاوی کرنے یا انہیں محدود کرنے کے لیے استعمال نہیں کر سکتا۔ درخواستوں میں واضح موقف اپنایا گیا ہے کہ بنچوں کی تشکیل، مقدمات کی منتقلی اور ججوں کو روسٹر سے نکالنے جیسے اختیارات کسی ایک فرد، حتیٰ کہ چیف جسٹس کے پاس بھی نہیں ہونے چاہئیں، بلکہ یہ عمل اجتماعی قواعد و ضوابط کے تحت ہی ممکن ہونا چاہیے۔سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ”ماسٹر آف دی روسٹر“کا اصول سپریم کورٹ پہلے ہی کالعدم قرار دے چکی ہے،اس لیے چیف جسٹس کی طرف سے اس تصور کے تحت بینچز بنانا یا مقدمے منتقل کرنا آئینی طور پر درست نہیں۔ججز نے استدعا کی کہ 3 فروری اور 15 جولائی 2025 کو جاری کیے گئے انتظامی کمیٹیوں کے نوٹیفکیشن اور ان کے تحت کیے گئے تمام اقدامات بدنیتی پر مبنی،غیر قانونی اور عدالت کے دائرہ اختیار سے باہر تھے،اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جائے۔
مزید کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز 2025 بھی غیر قانونی ہیں کیونکہ انہیں ایک غیر آئینی کمیٹی نے بنا کر جاری کیا،جنہیں بعد ازاں منظور کرنا بھی آئین کے منافی ہے۔ججز نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ ہائی کورٹ اپنے ہی خلاف آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت رِٹ جاری نہیں کر سکتی اور نہ ہی ڈویژن بنچ سنگل بنچ کے عبوری فیصلے پر اپیل سن سکتا ہے۔درخواست میں زور دیا گیا کہ ہائی کورٹ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈسٹرکٹ عدلیہ کو مضبوط بنائے تا کہ وہاں کے جج بلا خوف و دباو آزادانہ فیصلے کر سکیں۔ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ کسی جج کو عدالتی فرائض سے صرف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت ہی روکا جا سکتا ہے،اس کے علاوہ کسی اور طریقہ کار کی کوئی گنجائش نہیں۔پانچ ججز کی یہ 11 استدعائیں نہ صرف چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ کے اختیارات کو براہ راست چیلنج کرتی ہیں بلکہ عدلیہ کے اندر بڑھتی ہوئی تقسیم کو بھی اجاگر کرتی ہیں۔یہ دیکھنا اب دلچسپ ہو گا کہ سپریم کورٹ ان اہم آئینی سوالات پر کیا فیصلہ دیتی ہے اور آیا یہ عدالتی نظام میں ایک نئے دور کی شروعات ثابت ہو گا یا مزید تنازعات کو جنم دے گا۔