کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کہا ہے کہ کراچی کی تقدیر متحدہ قومی موومنٹ( ایم کیو ایم)پاکستان سے جڑی ہوئی ہے،کراچی کبھی کسی کی بدمعاشی قبول نہیں کرتا،صوبے کی تقسیم کو غداری کہنے سے بڑی غداری نہیں ہو سکتی،جاگیردارنہ نظام اور پرانے کاروباری حلقے ایم کیو ایم کے قیام اور ترقی کو ہضم نہیں کر پاتے، پانچ مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہونے کے باوجود میں نے اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا۔ انہوں نے ووٹ دینے والوں پر زور دیا کہ وہ فنڈز لائیں تاکہ شہر کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے آگے بڑھ سکیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی وزیر تعلیم خالد مقبول صدیقی نے کراچی چیمبر آف کامرس میں خطاب کرتے ہوئے شہر کی سیاسی تاریخ، جمہوریت اور ایم کیو ایم کے کردار پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ بڑے بڑے کاروبار اور ادارے قومیائے گئے اور بعد میں پرائیویٹائز کیے گئے، تاہم جو لوگ ووٹ دیتے ہیں، انہیں چاہیے کہ فنڈز کی فراہمی میں بھی کردار ادا کریں۔ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ جتنی جمہوریت آزاد ہے، وہ اتنی ہی سچ بولیں گے، اور خوشی ہے کہ جو باتیں جماعت اسلامی کے ذریعے شروع کی گئیں، وہ اب دیگر سیاسی حلقوں نے بھی اپنالی ہیں۔ انہوں نے جماعت اسلامی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اپنے نعروں کو عوامی بیچ میں جگہ دی۔انہوں نے کہا کہ بعض لوگ ایم کیو ایم پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کرتے ہیں کہ اس نے شہر کو یوم سوگ دیا مگر حقیقت یہ ہے کہ مولانا مودودی اور شاہ احمد نورانی نے ہمیشہ کراچی کی نمائندگی کی، کراچی کبھی کسی کی بدمعاشی قبول نہیں کرتا، ایم کیو ایم نے غریب افراد کو بھی رکن اسمبلی منتخب کرنے کا موقع دیا اور شہر کے وسائل کی تقسیم میں شفافیت کو یقینی بنایا۔وفاقی وزیر نے کہا کہ ایم کیو ایم سے پہلے کراچی میں لسانی اور سیاسی تنظیمیں متعدد تھیں لیکن 2008 میں کراچی عالمی سطح پر ایک ایمرجنگ شہر کے طور پر ابھرا، عالمی ادارے آج شہر کو رہنے کے قابل بنانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں جبکہ جاگیر دارنہ نظام اور پرانے کاروباری حلقے ایم کیو ایم کے قیام اور ترقی کو ہضم نہیں کر پاتے۔ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم نے شہر کے غریب اور متوسط طبقے کے لیے نمائندگی کو یقینی بنایا اور شہری ترقی کے منصوبوں میں عوامی شمولیت کو بڑھایا، جو کراچی کی سماجی اور معاشی بہتری کے لیے اہم اقدام ہے۔
کراچی نے کبھی بدمعاشی قبول نہیں کی،عوامی مینڈیٹ ایم کیو ایم کا اصل سرمایہ،خالد مقبول صدیقی
10