لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)انسدادِ دہشت گردی عدالت لاہور نے زمان پارک میں اسلام آباد پولیس پر مبینہ حملے کے مقدمے میں گرفتار پاکستان تحریکِ انصاف(پی ٹی آئی) کے رہنما اور لاہور کے صدر میاں اکرم عثمان کی درخواستِ ضمانت منظور کرلی، عدالت نے فریقین کے تفصیلی دلائل سننے کے بعد دو لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض ملزم کی ضمانت منظور کرتے ہوئے ان کی رہائی کا حکم جاری کیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق مقدمے کی سماعت انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کی۔ سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے وکیل سلمان اکرم راجہ ایڈووکیٹ نے میاں اکرم عثمان کی جانب سے تفصیلی دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم کو سیاسی بنیادوں پر مقدمے میں نامزد کیا گیا ہے اور استغاثہ الزامات کو ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے۔ وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ شواہد کی عدم موجودگی میں ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے۔عدالتی کارروائی کے دوران پراسیکیوشن نے ضمانت کی مخالفت کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزم پر پولیس پر حملے اور سرکاری اہلکاروں کی مزاحمت کے الزامات عائد ہیں تاہم عدالت نے دونوں فریقین کے دلائل کا جائزہ لینے کے بعد یہ قرار دیا کہ ضمانت سے متعلق قانونی تقاضے پورے ہوتے ہیں۔عدالت نے اپنے مختصر حکم میں کہا کہ مقدمے کے حتمی میرٹس کا فیصلہ ٹرائل کے دوران کیا جائے گا، جبکہ موجودہ مرحلے پر ملزم ضمانت کا حقدار ہے۔ عدالت نے میاں اکرم عثمان کو دو لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دے دیا۔یاد رہے کہ میاں اکرم عثمان کے خلاف تھانہ ریس کورس لاہور میں زمان پارک کے واقعے کے تناظر میں اسلام آباد پولیس پر حملے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا اور لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب سے قبل انہیں گرفتار کیا گیا تھا۔ عدالت کے اس فیصلے کو پی ٹی آئی کے لیے ایک اہم قانونی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے جبکہ مقدمے کی مزید سماعت ٹرائل کے مرحلے میں جاری رہے گی۔
انسداد دہشت گردی عدالت کا بڑا فیصلہ،تحریک انصاف کے رہنما میاں اکرم عثمان کی فوری رہائی کا حکم
3