لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور کی انسدادِ دہشت گردی عدالت نے کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے کے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کی قیادت کو ایک اور بڑا قانونی جھٹکا دے دیا، کوٹ لکھپت جیل میں رات گئے سنائے گئے فیصلے کے تحت ڈاکٹر یاسمین راشد، عمر سرفراز چیمہ، میاں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری کو 10،10 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس سے پی ٹی آئی کو درپیش قانونی مشکلات میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت لاہور نے کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے کے مقدمے کا فیصلہ سنا دیتے ہوئے تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کو بڑا قانونی دھچکا دے دیا۔عدالت نے ڈاکٹر یاسمین راشد،عمر سرفراز چیمہ،میاں محمود الرشید اور سینیٹر اعجاز چوہدری سمیت دیگر ملزمان کو 10،10 سال قید کی سزا سنا دی۔فیصلہ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج ارشد جاوید نے کوٹ لکھپت جیل میں سنایا،جہاں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ کلمہ چوک پر پیش آنے والے واقعے میں ملزمان نے عوام کو فسادات پر اکسانے،ریاستی رٹ کو چیلنج کرنے اور سرکاری املاک کو نذرِ آتش کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا۔فیصلے کے مطابق مقدمے میں نامزد 24 ملزمان کا ٹرائل مکمل کیا گیا،جس کے دوران 37 گواہان کے بیانات قلمبند کیے گئے جبکہ تھانہ نصیر آباد کی جانب سے 36 ملزمان کے خلاف چالان جمع کرایا گیا تھا۔
عدالت نے بتایا کہ دورانِ ٹرائل متعدد ملزمان اشتہاری قرار دیے گئے جن میں مراد سعید،زبیر نیازی،علی حسن نواز،شبیر حسین،عزیز الرحمان،ظریف خان،صیاد خان، محمد جاوید،عبدالصمد،حماد اظہر اور واثق قیوم شامل ہیں۔عدالت نے میاں اسلم اقبال سمیت 12 اشتہاری ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔فیصلے میں واضح کیا گیا کہ سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا اس مقدمے میں تا حال چالان جمع نہیں ہوا تا ہم سپلیمنٹری چالان جمع ہونے کے بعد ان کا ٹرائل دوسرے مرحلے میں شروع کیا جائے گا۔عدالت کے مطابق مقدمے میں ملزمان پر بغاوت،عوام کو تشدد پر اکسانے اور امن عامہ کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت ہوئے ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹر یاسمین راشد کے وکیل رانا مدثر عمر نے فیصلے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مقدمات معمول کی کارروائی کے لیے مقرر تھے تا ہم دفاع کو مکمل موقع دیے بغیر رات کے اندھیرے میں فیصلے سنائے گئے۔انہوں نے کہا کہ کوٹ لکھپت جیل میں قید اسیران کے حوصلے بلند ہیں اور اب تک پی ٹی آئی رہنماوں کو مجموعی طور پر 200 سال سے زائد کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں،جنہیں اعلیٰ عدالتوں میں چیلنج کیا جائے گا۔وکیل کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے خلاف تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے اور انصاف کے حصول کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔