Home » ملک معاشی دباو میں،وزیر اعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کے لئے کمر کس لی،کیا عالمی اجلاس پاکستان کے مسائل حل کر پائے گا؟

ملک معاشی دباو میں،وزیر اعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کے لئے کمر کس لی،کیا عالمی اجلاس پاکستان کے مسائل حل کر پائے گا؟

by ahmedportugal
4 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)ملک شدید معاشی دباو،بڑھتی مہنگائی،بے روزگاری اور عوامی بے چینی کی لپیٹ میں ہے،ایسے وقت میں وزیر اعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے کی تیاریاں مکمل کر لی ہیں جہاں وہ ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔حکومت اس دورے کو عالمی سرمایہ کاری کے حصول اور پاکستان کے مثبت تشخص کی بحالی سے جوڑ رہی ہے تاہم ناقدین سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ڈیووس جیسے عالمی اجلاس واقعی پاکستان کے گرتے ہوئے معاشی حالات،قرضوں کے بوجھ اور عام آدمی کی مشکلات کا کوئی عملی حل پیش کر پائیں گے یا یہ دورہ بھی ماضی کی طرح محض بیانات،ملاقاتوں اور امیدوں تک محدود رہے گا؟۔
ایگزو نیوز کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف کل(سوموار کے روز)سرکاری دورے پر سوئٹزرلینڈ روانہ ہوں گے جہاں وہ 19 سے 23 جنوری تک ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے سالانہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔فورم میں دنیا بھر کے تین ہزار سے زائد عالمی رہنما،بڑے کاروباری گروپس کے سربراہان،سرمایہ کار،عالمی مالیاتی اداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندے شریک ہوں گے جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت بھی متوقع ہے اور اس موقع پر دونوں رہنماوں کی ممکنہ ملاقات پر بھی توجہ مرکوز ہے۔وزیراعظم کے اس دورے کو حکومت کی جانب سے عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے فروغ اور پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسے بین الاقوامی فورمز پر شرکت ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے مگر ان دوروں کے عملی ثمرات عام پاکستانی شہری تک پہنچنے میں ناکام رہے ہیں۔

معاشی ماہرین کے مطابق ملک اس وقت شدید مالی دباو،مہنگائی، بے روزگاری اور صنعتی جمود جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے،ایسے میں عالمی اجلاسوں میں شرکت اس وقت بامعنی ثابت ہو گی جب اس کے نتیجے میں ٹھوس سرمایہ کاری اور واضح معاشی پیکجز سامنے آئیں۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف ورلڈ اکنامک فورم کے مختلف اہم سیشنز اور مباحثوں میں شرکت کریں گے جہاں عالمی معیشت،ترقی پذیر ممالک کے چیلنجز،موسمیاتی تبدیلی،علاقائی استحکام اور سرمایہ کاری کے مواقع جیسے موضوعات زیر بحث آئیں گے۔اس کے ساتھ ساتھ وزیراعظم کی متعدد عالمی رہنماوں،بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور عالمی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقاتیں بھی طے ہیں،جن میں پاکستان میں سرمایہ کاری،تجارتی تعاون اور معاشی شراکت داری پر بات چیت متوقع ہے تاہم اپوزیشن حلقوں اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیووس جیسے فورمز پر پاکستان کے لیے اصل امتحان محض تقاریر یا ملاقاتیں نہیں بلکہ اعتماد کی بحالی ہے،جو سیاسی عدم استحکام،پالیسیوں کے عدم تسلسل اور بار بار بدلتے معاشی اہداف کے باعث شدید متاثر ہو چکا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ جب تک اندرونِ ملک واضح اصلاحات،ٹیکس نیٹ میں توسیع اور صنعتی پالیسی میں استحکام نہیں آتا،بیرونی سرمایہ کار محض وعدوں سے آگے بڑھنے کو تیار نہیں ہوں گے۔

ماضی کے ورلڈ اکنامک فورم اجلاسوں میں بھی پاکستانی قیادت نے بڑے دعوے کیے مگر ان دعووں کے برعکس زمینی حقائق میں خاطر خواہ تبدیلی نظر نہیں آئی،جس کے باعث عوام میں ایسے دوروں کے حوالے سے شکوک و شبہات بڑھتے جا رہے ہیں۔عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس وقت ترجیح مہنگائی پر قابو، روزگار کے مواقع اور عام آدمی کو ریلیف ہونا چاہیے جبکہ بیرونی دوروں کے اخراجات اور نتائج پر بھی شفافیت ضروری ہے۔اب دیکھنا یہ ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف کا یہ ڈیووس دورہ محض سفارتی سرگرمیوں تک محدود رہتا ہے یا واقعی پاکستان کے لیے کوئی ٹھوس معاشی پیش رفت،سرمایہ کاری کے معاہدے اور قابلِ عمل نتائج سامنے آتے ہیں جو ملک کی معاشی سمت بدلنے میں مددگار ثابت ہوں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز