واشنگٹن(ایگزو نیوز ڈیسک)واشنگٹن ڈی سی کے حساس ترین علاقے میں اس وقت کھلبلی مچ گئی جب وائٹ ہاوس سے چند ہی بلاکس کی دوری پر ایک مسلح شخص نے نیشنل گارڈ کے اہلکاروں کو نشانہ بناتے ہوئے فائرنگ کر دی۔ اچانک ہونے والی اندھا دھند فائرنگ نے پورے شہر کو ہلا کر رکھ دیا جبکہ جائے وقوعہ لمحوں میں پولیس، فیڈرل فورسز اور ایمرجنسی یونٹس سے بھر گیا، فائرنگ میں دو نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں انہیں انتہائی نگہداشت میں رکھا گیا ہے جبکہ مشتبہ افغان حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

ایگزو نیوز کے مطابق ایک دل دہلا دینے والے واقعے میں واشنگٹن ڈی سی کے مرکز میں واقع وائٹ ہاوس سے چند گلیاں دور دو نیشنل گارڈ اہلکاروں کو نشانہ بنا کر فائر کیا گیا، جنہیں فوری طور پر ہسپتال منتقل کیا گیا اور اُن کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گارڈ اہلکار معمول کی ڈیوٹی پر موجود تھے اور عینی شاہدین کے مطابق اطراف میں اچانک فائرنگ کی آواز اور ہنگامہ مچ گیا،واشنگٹن پولیس اور سیکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو فوری طور پر گھیرے میں لے لیا،آس پاس کی سڑکیں بند کر دیں اور وائٹ ہاوس کو عارضی طور پر لاک ڈاون کر دیا گیا۔علاقے میں سیکورٹی کی اضافی نفری تعینات کر دی گئیں،تفتیشی ٹیمیں علاقے کی بڑی سطح پر سیکیورٹی کیمروں اور فون ریکارڈز کا تجزیہ کر رہی ہیں۔ابتدائی تفتیش کے مطابق حملہ ”منصوبہ بندی کے تحت“ کیا گیا۔عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حملہ آور نے گھات لگا کر اہلکاروں پر گولیاں چلائیں اور گولیوں کی آواز سنتے ہی علاقے میں بھگدڑ مچ گئی۔پولیس نے کم سے کم مزاحمت کے بعد حملہ آور کو زخمی حالت میں حراست میں لے لیا۔حکام نے مشتبہ شخص کی شناخت 29 سالہ افغان باشندے رحمان اللہ لکھنوال کے نام سے کی ہے جو مبینہ طور پر 2021 میں امریکہ داخل ہوا تھا۔حملے کے محرکات اور ممکنہ روابط کی گہرائی سے تحقیقات جاری ہیں۔فائرنگ کے فوراً بعد سیکیورٹی اداروں نے وائٹ ہاوس اور اطراف کے علاقوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا۔آئی سٹریٹ سمیت متعدد مرکزی راستے بند کر دیے گئے جبکہ شہریوں کو علاقے سے دور رہنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر شہر میں اضافی 500 اہلکار تعینات کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔

وائٹ ہاوس کی پریس سیکرٹری نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو لمحہ بہ لمحہ صورتحال سے آگاہ رکھا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے سخت ردِعمل میں حملہ آور کو ”جانور“ قرار دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل گارڈ پر حملہ کرنے والا ”بھاری قیمت چکائے گا“،یہ واردات محض جرم نہیں بلکہ امریکی قوم کے خلاف دہشت گردانہ حملہ ہے۔ایف بی آئی ڈائریکٹر کاش پٹیل نے پریس بریفنگ میں تصدیق کی کہ واقعہ کو قومی سلامتی کے زاویے سے دیکھا جا رہا ہے،دونوں نیشنل گارڈ اہلکاروں کی حالت تشویش ناک ہے اور حملہ آور کے کسی نیٹ ورک سے تعلق کے بارے میں تفتیش جاری ہے۔واقعے کے فوراً بعد رونالڈ ریگن نیشنل ایئرپورٹ پر پروازوں کی روانگی عارضی طور پر روک دی گئی تا ہم چند گھنٹوں بعد آپریشن بحال کر دیا گیا۔پولیس، نیٹ ورک سیکیورٹی یونٹس اور فیڈرل ایجنسیوں نے جائے وقوعہ کے گرد شواہد اکٹھا کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔شہر کے میئر اور وفاقی حکام نے واقعے کو ” ٹارگٹڈ اٹیک “قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے۔امریکی انتظامیہ کے مطابق فی الحال کوئی دوسرا مشتبہ فرد موجود نہیں تا ہم خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔حملے نے ایک بار پھر امیگریشن پالیسی،افغانستان سے آنے والوں کی جانچ اور داخلی سیکیورٹی کے حوالے سے نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے جبکہ عوامی سطح پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔امریکی ادارے فی الحال واقعے کی تفصیلات خفیہ رکھے ہوئے ہیں اور مزید معلومات جلد سامنے لانے کا عندیہ دیا ہے۔