Home » سعودی عرب پر مبینہ میزائل حملے،خطے میں جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں

سعودی عرب پر مبینہ میزائل حملے،خطے میں جنگ کے بادل پھر منڈلانے لگے،مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر کشیدگی کی لپیٹ میں

by ahmedportugal
18 views
A+A-
Reset

ریاض/صنعائ(ایگزو نیوز ڈیسک)سعودی عرب پر مبینہ میزائل حملوں اور یمن سے متعلق متضاد اطلاعات کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں تیزی دیکھی جا رہی ہے،جہاں علاقائی سلامتی کے خدشات نے سفارتی اور عسکری حلقوں کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔غیر مصدقہ رپورٹس میں سعودی علاقے عسیر اور حساس عسکری تنصیبات کے قریب دھماکوں کی آوازیں سننے کا دعویٰ کیا گیا ہے تاہم سرکاری سطح پر ان واقعات کی واضح تصدیق سامنے نہیں آ سکی۔دوسری جانب یمن کی مختلف قوتوں کی جانب سے متضاد دعوے اور بیانات سامنے آنے سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے جبکہ ایران،امریکہ اور عرب اتحادیوں کے درمیان بڑھتی ہوئی لفظی محاذ آرائی نے خطے کو ایک بار پھر ممکنہ تصادم کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے،جہاں مختلف ذرائع سے سعودی عرب کی جانب مبینہ میزائل حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں تاہم ان دعووں کی تاحال سرکاری سطح پر مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔رپورٹس کے مطابق یمن سے سعودی عرب کے ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے کے لیے کم از کم چھ میزائل داغے گئے جبکہ سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیر میں دھماکوں کی آوازیں سنے جانے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔اطلاعات میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کنگ خالد ایئر بیس کے قریب دھوئیں کے بادل دیکھے گئے تاہم سعودی حکام کی جانب سے فوری طور پر کسی بڑے نقصان یا حملے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی۔بعض غیر مصدقہ رپورٹس میں حوثی باغیوں کی جانب سے اس کارروائی کا تذکرہ کیا جا رہا ہے،جسے 2022 کے بعد پہلا براہِ راست حملہ قرار دیا جا رہا ہے تاہم اس حوالے سے واضح اور مستند موقف سامنے آنا باقی ہے۔

دوسری جانب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ اور سعودی حمایت یافتہ حکومت،جو عدن میں قائم ہے،نے ایک علیحدہ کارروائی کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج نے صنعاءایئرپورٹ کے رن وے کو نشانہ بنایا۔یمنی حکام کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایک ایرانی طیارے کو لینڈنگ سے روکنا تھا، جس پر یمنی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا گیا۔بعد ازاں اطلاعات سامنے آئیں کہ مذکورہ طیارہ حدیدہ ایئرپورٹ پر اترا،جو حوثیوں کے کنٹرول میں ہے۔تجزیہ کاروں کے مطابق چونکہ عدن حکومت کو سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے،اس لیے بعض حلقے اس کارروائی کو سعودی پالیسی کا تسلسل قرار دے رہے ہیں تاہم اس تاثر کی باضابطہ توثیق موجود نہیں اور سعودی حکام نے براہِ راست کسی حملے میں ملوث ہونے کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر ایران کی مسلح افواج کے ترجمان کی جانب سے بھی سخت بیان سامنے آیا ہے،جس میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی مداخلت برداشت نہیں کی جائے گی۔بیان میں عرب ممالک کو بھی متنبہ کیا گیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ عسکری تعاون کی صورت میں ردعمل دیا جائے گا۔خطے میں جاری ان متضاد دعووں اور بیانات کے باعث صورتحال تیزی سے غیر یقینی ہوتی جا رہی ہے جبکہ عالمی مبصرین اس پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں ایک ممکنہ بڑے تصادم کے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔سفارتی حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور کسی بھی قسم کی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے بین الاقوامی کوششوں کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز