کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)لاہور میں کروڑوں روپے مالیت کی مبینہ چوری اور نقب زنی کی وارداتوں کے حوالے سے مطلوب اشتہاری ملزم مہتاب کو اس کے رشتہ دار عبدالرحمان سمیت جھنگ سے گرفتار کرلیا گیا۔گلشن اقبال پولیس کے مطابق گرفتار ملزم مہتاب کے خلاف چوری اور نقب زنی کے 18 مقدمات درج ہیں جبکہ ابتدائی تفتیش میں اس کے مختلف شہروں میں گھروں سے چوری کی متعدد وارداتوں میں ملوث ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم مہتاب اپریل 2026 میں کراچی کے علاقے صدر میں ہونے والی 22 کروڑ روپے کی بڑی چوری کی واردات میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہا۔تفتیشی ٹیم اس واردات اور دیگر کیسز میں ملزم کے ممکنہ کردار،ساتھیوں اور چوری شدہ سامان سے متعلق مزید شواہد اکٹھے کررہی ہے۔پولیس کا کہنا ہے کہ دونوں گرفتار ملزمان آپس میں رشتہ دار ہیں اور ضلع جھنگ سے تعلق رکھتے ہیں۔ملزمان مبینہ طور پر پاک لائن سٹی،کوٹ عبدالمالک میں رہائش پذیر تھے،جہاں سے ان کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات حاصل ہونے کے بعد کارروائی عمل میں لائی گئی۔گرفتاری کے بعد پولیس نے ملزمان کی نشاندہی پر مختلف وارداتوں سے متعلق اہم شواہد اور مبینہ طور پر مسروقہ سامان بھی برآمد کیا۔پولیس کے مطابق مہتاب کے قبضے سے ایک چوری شدہ لیپ ٹاپ،اصل دستاویزات اور لیپ ٹاپ بیگ برآمد ہوا۔تفتیش کے دوران ملزم مہتاب نے جھنگ موٹروے بائی پاس کے قریب ایک گھر میں چوری کی واردات میں ملوث ہونے کا بھی مبینہ طور پر انکشاف کیا۔پولیس کے مطابق مذکورہ واردات کے دوران چوری کیا گیا ٹیبلٹ اور موبائل فون بھی برآمد کرلیا گیا ہے۔پولیس کے مطابق گرفتار دوسرے ملزم عبدالرحمان کے قبضے سے 9 ایم ایم پستول اور گولیاں بھی برآمد ہوئی ہیں۔اسلحے کی برآمدگی کے بعد ملزم کے خلاف متعلقہ قوانین کے تحت مزید کارروائی بھی شروع کردی گئی ہے۔تفتیشی حکام نے بتایا کہ اسلام آباد کے تھانہ رمنا میں درج چوری کے ایک مقدمے سے متعلق مسروقہ سامان بھی گرفتار ملزمان کی نشاندہی پر برآمد کیا گیا ہے،جس سے مبینہ طور پر ان کے مختلف شہروں میں سرگرم ہونے کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔پولیس کے مطابق ملزمان جھنگ،فیصل آباد اور رحیم یار خان سمیت مختلف علاقوں میں گھروں میں چوری اور نقب زنی کی وارداتوں میں بھی مبینہ طور پر ملوث رہے ہیں۔تفتیشی ٹیم ان وارداتوں کے درمیان ممکنہ روابط،طریقہ واردات اور دیگر ساتھیوں کے کردار کا جائزہ لے رہی ہے۔
گلشن اقبال پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان سے برآمد ہونے والے سامان، دستاویزات،الیکٹرانک آلات اور دیگر شواہد کو متعلقہ مقدمات کے ریکارڈ سے ملایا جارہا ہے، جبکہ مختلف اضلاع کی پولیس سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے تاکہ ملزمان کے خلاف درج مقدمات اور ان کے مبینہ نیٹ ورک کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جاسکیں۔تفتیش کے دوران پولیس یہ بھی جاننے کی کوشش کررہی ہے کہ ملزمان مختلف علاقوں میں وارداتوں کے لیے کس طریقہ کار کو اختیار کرتے تھے،ان کے ساتھ مزید کون کون سے افراد شامل تھے اور چوری شدہ سامان کو کہاں منتقل یا فروخت کیا جاتا تھا۔پولیس کے مطابق گرفتار ملزمان سے مزید وارداتوں،ان کے ممکنہ ساتھیوں اور دیگر جرائم سے متعلق پوچھ گچھ جاری ہے۔تفتیشی حکام کو امید ہے کہ ملزمان کے ریمانڈ اور مزید تفتیش کے دوران لاہور اور دیگر شہروں میں ہونے والی چوری کی متعدد وارداتوں کے حوالے سے مزید اہم شواہد سامنے آسکتے ہیں۔پولیس نے گرفتار ملزمان سے برآمد ہونے والے سامان اور اسلحے کو تفتیش کا حصہ بنا لیا ہے جبکہ مختلف مقدمات میں ممکنہ طور پر متاثرہ افراد اور متعلقہ تھانوں سے بھی رابطہ کیا جارہا ہے۔حکام کے مطابق کارروائی کا بنیادی مقصد نہ صرف گرفتار ملزمان سے متعلق مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچانا ہے بلکہ مبینہ چوریوں کے پورے نیٹ ورک، اس کے سہولت کاروں اور دیگر ملوث عناصر تک رسائی حاصل کرنا بھی ہے۔پولیس نے امکان ظاہر کیا ہے کہ تفتیش آگے بڑھنے کے ساتھ مزید گرفتاریاں اور برآمدگیاں بھی ہوسکتی ہیں۔