اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے اعلان کیا ہے کہ 8 فروری کو پورے ملک میں احتجاجی مظاہرے کیے جائیں گے۔ ان کے بقول عوام اپنے ”چوری شدہ ووٹ“ واپس مانگیں گے اور وہ خود عمران خان کی رہائی تک جدوجہد جاری رکھیں گی، جسٹس سرفرازڈوگر اور عدلیہ کے دیگر ججز کے رویے نے انصاف کے تقاضوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے اور موجودہ نظام نے حقِ سچ کی آواز دبائی ہوئی ہے جس سے شہریوں کا عدلیہ پر اعتماد کمزور ہو رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق علیمہ خان نے عدالت پیشی کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ رات اڈیالہ جیل کے باہر ایک چھوٹے بچے نے عمران خان کا نام لیا جس پر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا،نجم اور شاہد خٹک ان کے ساتھ موجود تھے،میں نے نجم کو عمران خان کا نعرہ لگانے کے لیے کہا،جس پر پولیس اہلکاروں نے شدید تشدد کیا اور کارکنوں کو گرفتار کیا،پولیس اہلکار خواتین کے ساتھ بھی بے رحمانہ رویہ اختیار کر رہی تھیں حالانکہ خود خواتین تھیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کے نام کی تذکرہ پر حکومتی اور پولیس رویہ انتہائی سخت اور جارحانہ ہو جاتا ہے،عمران خان کی رہائی تک احتجاج جاری رہے گا اور عوام کی آواز دبائی نہیں جائے گی،25 کروڑ عوام عمران خان کے ساتھ ہیں اور ووٹ کے حق کی واپسی کے لیے 8 فروری کو بھرپور احتجاج کریں گے۔
علیمہ خان نے بیان کیا کہ اڈیالہ روڈ پر خواتین اور بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا،پولیس اہلکاروں نے لاٹھی چارج کیا،کارکنوں کو مارا پیٹا اور گرفتاریاں کی گئیں۔ علیمہ خان کا کہنا تھا کہ یہ صرف اسلام آباد جانے کے اعلان کے بعد ہوا اور حکومتی رویہ عوامی احتجاج کو دبانے کی کوشش ہے۔انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی انصاف دلانے میں ہمت نہیں کر سکتے تو ان کے ماتحت ججز کیسے اس عہدے پر کھڑے رہ سکتے ہیں،اگر جسٹس ڈوگر کو کسی سے پوچھ کر بولنا پڑے تو وہ بہتر ہے کہ وہ اپنی کرسی سے استعفیٰ دیں کیونکہ عدلیہ کو آزاد اور بے باک فیصلے کرنے چاہیے،نہ کہ دباو یا سیاست کے تابع۔علیمہ خان نے واضح کیا کہ عمران خان کے خلاف دو مقدمات میں عدلیہ کے رویے نے انہیں جیل میں رکھا ہوا ہے،نہ ضمانت دی جا رہی ہے اور نہ مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے۔وہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہر فورم پر آواز بلند کریں گی،چاہے اس کے لیے شدید حالات کا سامنا کرنا پڑے۔