Home » میرے استعفے کے ساتھ مذاق ہو رہا،جمہوری عمل کو تاخیری حربوں سے مت روکا جائے،علی امین گنڈاپور کا شکوہ

میرے استعفے کے ساتھ مذاق ہو رہا،جمہوری عمل کو تاخیری حربوں سے مت روکا جائے،علی امین گنڈاپور کا شکوہ

by ahmedportugal
6 views
A+A-
Reset

پشاور(ایگزو نیوز ڈیسک) خیبر پختونخوا اسمبلی کے پرہنگام اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے کے معاملے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے استعفے کے ساتھ ”مذاق“ کیا جا رہا ہے اور جمہوری عمل کو دانستہ تاخیر کا شکار بنایا جا رہا ہے،میںنے 8 اکتوبر کو باقاعدہ طور پر اپنا استعفیٰ گورنر ہاوس بھجوایا تھا  لہٰذا اب صوبے میں قیادت کی منتقلی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا کرنا غیر آئینی اور غیر جمہوری رویہ ہے،میںپنی کارکردگی پر مطمئن اور چاہتا ہوں کہ جمہوری تسلسل برقرار رہے تاکہ صوبہ ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس میں سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور نے اپنے استعفے کے معاملے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان کے استعفے کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے اور سیاسی طور پر تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں،میں نے 8 اکتوبر کو باقاعدہ طور پر اپنا استعفیٰ گورنر ہاوس بھجوایا تھا مگر اس پر غیر ضروری ابہام پیدا کیا جا رہا ہے۔ایوان میں خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ وہ اپنی 18 ماہ کی کارکردگی پر مطمئن ہیں،میں نے صوبے کے وسائل میں بہتری لائی، 280 ارب روپے خزانے میں محفوظ ہیں، 35 ارب روپے ترقیاتی بجٹ میں اضافی دیے، =ہماری حکومت  نے امن،انصاف اور ترقی کے لیے کام کیا اور دہشت گردی و معاشی چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور کوشش کی۔انہوں نے کہا کہ ملک اور صوبے دونوں کو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے مگر ان سے نمٹنے کے لیے اتحاد اور استحکام ضروری ہے،بھارت اور اسرائیل ظلم کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں لیکن ہماری جدوجہد پاکستان اور خیبر پختونخوا کے عوام کے لیے جاری رہے گی،اللہ کا شکر ہے کہ اس نے مجھے سرخرو کیا۔سابق وزیراعلیٰ نے نومنتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا متفقہ فیصلہ ہے،ہماری اکثریت برقرار ہے،بانی تحریک انصاف کے حکم پر میں نے فوری استعفیٰ دیا،اب جمہوری عمل کو ہونے دیں اور غیر ضروری تاخیر مت کریں، ہماری اکثریت ہے،ہماری مرضی کہ ہم کسے وزیر اعلیٰ بنائیں؟۔

دوسری جانب اپوزیشن لیڈر عباداللہ نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے موقف اپنایا کہ ایک وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے دوسرا وزیراعلیٰ منتخب نہیں ہو سکتا، علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ ابھی تک منظور نہیں ہوااور گورنر ہاوس کی جانب سے موصول خط میں واضح لکھا گیا ہے کہ کابینہ بھی تاحال تحلیل نہیں ہوئی۔انہوں نے ایوان میں شور شرابے کے دوران کہا کہ ہم آئینی خلاف ورزی کا حصہ نہیں بن سکتے لہٰذا ہم اجلاس سے واک آوٹ کر رہے ہیں،اس کے بعد اپوزیشن کے تمام ارکان ایوان سے باہر چلے گئے۔سپیکر خیبر پختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے اپوزیشن کے اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے رولنگ دی کہ علی امین گنڈاپور نے فلور آف ہاوس پر استعفیٰ دینے کا اعلان کیا لہٰذا ان کا استعفیٰ آئینی طور پر موثر ہے اور وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل مکمل طور پر آئینی و قانونی ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق علی امین گنڈاپور کی متوازن تقریر نے اس تاثر کو کم کیا کہ پارٹی کے اندر کوئی بڑی دراڑ موجود ہے تاہم گورنر کی جانب سے استعفیٰ کی تصدیق نہ ہونے سے آئینی ابہام برقرار ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر گورنر ہاوس نے واقعی استعفیٰ منظور نہیں کیا تو وزیراعلیٰ کے انتخاب کا عمل عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے، جو صوبے کے لیے ایک نئے آئینی بحران کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ دوسری طرف آج کے اجلاس نے واضح کر دیا کہ خیبر پختونخوا کی سیاست میں طاقت کی بساط دوبارہ بچھ چکی ہے ، ایک طرف پی ٹی آئی اندرونی اتحاد کے ساتھ حکومت برقرار رکھنے کی کوشش کر رہی ہے اور دوسری طرف اپوزیشن آئینی میدان میں نیا معرکہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز