لندن(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کے صاحبزادے قاسم خان نے لاہور میں اپنی پھوپھی علیمہ خان کی گرفتاری پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے انہیں ”اغوا“ کیا اور ان کے خاندان کو یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ انہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔قاسم خان نے کہا ہے کہ علیمہ خان کے اہل خانہ اور وکلا بھی ان سے رابطہ نہیں کر پا رہے،جس پر انہوں نے فوری طور پر قانونی اور خاندانی رسائی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔
ایگزو نیوز کےمطابق قاسم خان نے اپنے بیان میں کہا کہ آج ان کی پھوپھی علیمہ خان کو لاہور میں پولیس نے حراست میں لے لیا تاہم خاندان کو ان کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات فراہم نہیں کی گئیں،اہل خانہ اور وکلا کی جانب سے رابطے کی کوششوں کے باوجود علیمہ خان تک رسائی ممکن نہیں ہو رہی۔قاسم خان نے الزام عائد کیا کہ کسی شخص کو حراست میں لینے کے بعد اس کے اہل خانہ اور قانونی نمائندوں کو اس کی موجودگی اور حالت سے آگاہ نہ کرنا تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ علیمہ خان تک ان کے خاندان اور وکلا کو فوری رسائی دی جائے اور واضح کیا جائے کہ انہیں کس مقام پر اور کن حالات میں رکھا گیا ہے۔اپنے بیان میں قاسم خان نے حکومت کے طرزِ عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ”فاشسٹ حکومت“ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ لوگوں کو گرفتار کرکے خاندانوں کو خوف زدہ کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق، قانونی ضابطوں اور قانون کی حکمرانی کی خلاف ورزی کی جا رہی ہے۔
قاسم خان نے کہا کہ پہلے ان کے والد عمران خان کو قید کیا گیا اور اب ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔انہوں نے اس صورتحال کو خاندان پر دباو ڈالنے سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ علیمہ خان کی گرفتاری کے معاملے میں بھی قانونی تقاضوں اور شفافیت کو یقینی بنایا جانا چاہیے۔انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ علیمہ خان کو فوری طور پر رہا کیا جائے،ان کے اہل خانہ اور وکلا کو ان سے ملاقات اور رابطے کی اجازت دی جائے اور ان کی گرفتاری کی وجوہات،مقامِ حراست اور موجودہ صورتحال کے بارے میں مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔قاسم خان نے اپنے بیان میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ پاکستان میں رونما ہونے والے واقعات کو نظر انداز نہ کیا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ دنیا مسلسل اس صورتحال سے آنکھیں نہیں چرا سکتی اور انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی سے متعلق معاملات کا نوٹس لیا جانا چاہیے۔
دوسری جانب علیمہ خان کی گرفتاری سے متعلق دستیاب سرکاری دستاویزات اور متعدد معتبر رپورٹس کے مطابق لاہور کے ڈپٹی کمشنر نے علیمہ خان اور ان کے ڈرائیور محمد عامر کو پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس کی دفعہ 3 کے تحت 30 روز کے لیے حراست میں لینے کا حکم جاری کیا ہے۔حکم کے مطابق دونوں کو کوٹ لکھپت جیل منتقل کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔انتظامیہ کی جانب سے جاری حکم میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق علیمہ خان کی عوامی مقامات پر موجودگی سے عوامی سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔اسی بنیاد پر انہیں 30 روز کے لیے نظر بند کرنے کا انتظامی حکم جاری کیا گیا۔علیمہ خان کی گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان تحریک انصاف نے 27 ستمبر کو اسلام آباد کی جانب احتجاجی مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔پی ٹی آئی نے ان کی گرفتاری پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسے غیر قانونی قرار دیا ہے اور فوری طور پر عدالت میں پیش کرنے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔
دوسری جانب حکومت کی جانب سے احتجاجی مارچ کے حوالے سے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ امن و امان برقرار رکھنا اور عوام کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ حکومت نے احتجاج کے دوران سڑکوں کی بندش اور شہریوں کی آمدورفت میں رکاوٹ کی اجازت نہ دینے کا عندیہ دیا ہے۔علیمہ خان کی گرفتاری کے بعد عمران خان کے خاندان کی جانب سے سامنے آنے والا قاسم خان کا بیان سیاسی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے تاہم گرفتاری کے قانونی جواز،حراست کے انتظامی حکم اور آئندہ قانونی کارروائی سے متعلق حتمی صورتِ حال متعلقہ حکام اور عدالتوں کے اقدامات سے واضح ہوگی۔