Home » مسجدِ اقصیٰ کراہ رہی،دنیا خاموش تماشائی،1948 سے زخم تازہ مگر 2025 نے تمام حدیں پار کر دیں،مسجد اقصیٰ کے سابق خطیب اور ممتاز فلسطینی رہنما شیخ عکرمہ صبری کا درد بھرا بیان

مسجدِ اقصیٰ کراہ رہی،دنیا خاموش تماشائی،1948 سے زخم تازہ مگر 2025 نے تمام حدیں پار کر دیں،مسجد اقصیٰ کے سابق خطیب اور ممتاز فلسطینی رہنما شیخ عکرمہ صبری کا درد بھرا بیان

by ahmedportugal
8 views
A+A-
Reset

غزہ(ایگزو نیوز ڈیسک)مسجد اقصیٰ کے سابق خطیب اور ممتاز فلسطینی رہنما شیخ عکرمہ صبری نے کہا ہے کہ 1948 سے جاری مظالم کا سلسلہ آج بھی پوری شدت کے ساتھ برقرار ہے، تاہم سال 2025 فلسطینی عوام، مسجد اقصیٰ اور بالخصوص القدس کے لیے بدترین اور انتہائی کٹھن سال ثابت ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ القدس کو منظم انداز میں گھونٹا جا رہا ہے تاکہ اسے خاموشی سے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے، جبکہ پوری دنیا بے حسی کے عالم میں تماشائی بنی ہوئی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ر ممتاز فلسطینی رہنما اور مفتی اعظم شیخ ڈاکٹر عکرمہ صبری نے اپنے بیان میں کہا کہ ہر سال فلسطینی عوام یہ کہتے ہیں کہ گزرنے والا سال تکلیف دہ تھامگر حقیقت یہ ہے کہ ہر آنے والا سال پہلے سے زیادہ درد اور مصائب لے کر آتا ہے، گزشتہ دو برس غیر معمولی طور پر سفاک ثابت ہوئے جبکہ حالیہ سال میں مسجد اقصیٰ اور القدس نے ناقابلِ بیان مظالم برداشت کیے۔انہوں نے انکشاف کیا کہ مسجد اقصیٰ کو انتہاپسند گروہوں کی جانب سے سنگین اور کھلی خلاف ورزیوں کا سامنا کرنا پڑا، جنہوں نے تمام سرخ لکیریں عبور کر لیں، اسی دوران مغربی کنارے کے فلسطینی کیمپ تباہ کیے گئے، القدس کو محاصرے میں جکڑا گیا اور غزہ کو مکمل تباہی کا سامنا کرنا پڑا، جہاں دسیوں ہزار فلسطینی شہید ہوئے جبکہ باقی عوام قید، جبر، بے دخلی اور فاقہ کشی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔شیخ عکرمہ صبری کا کہنا تھا کہ فلسطینی نوجوان جیلوں میں قید ہیں ، بزرگ اپنی روزی روٹی کے لیے بھی محفوظ نہیں جبکہ عالمی برادری کی جانب سے انسانی ذمہ داریوں کا فقدان اور عرب دنیا کی محض زبانی یقین دہانیاں فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہیں، القدس کے باسیوں نے عملی طور پر کسی حقیقی تبدیلی کو محسوس نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ سال 2025 مسلسل جاری المیوں کا تسلسل ہے، جس کا آغاز 1948 میں ہوا، اس سال مسجد اقصیٰ کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا ، مسلمانوں کو عبادات سے روکا گیا اور مقدس مقام پر خطرناک تجاوزات کی گئیں جبکہ آج بھی اقصیٰ خاموشی سے کراہ رہی ہے۔شیخ عکرمہ صبری نے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کسی صورت جبری ہجرت کو قبول نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی سازش کو کامیاب ہونے دیں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ القدس کے باشندے اپنے عہد پر قائم ہیں، مسجد اقصیٰ کا دفاع ہر قیمت پر جاری رہے گا اور اس حوالے سے کسی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ محض بیانات اور اپیلوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کیے جائیں، ہر انسان کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا ہوگا تاکہ جارحیت کا مکمل خاتمہ ممکن ہو۔ شیخ عکرمہ صبری نے امت مسلمہ کی صفوں میں اتحاد، ترجیحات کی درست ترتیب اور فلسطین کو امت کا مرکزی مسئلہ تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔اپنے بیان کے اختتام پر انہوں نے امید ظاہر کی کہ آنے والے سال فلسطینی عوام کے لیے نجات، کشادگی اور فتح کا پیغام لائیں گے اور وہ دن ضرور آئے گا جب القدس، اس کے باشندوں اور پورے فلسطین سے ظلم و جبر کا خاتمہ ہوگا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز