Home » بلوچستان میں “ڈیتھ سکواڈز” کا الزام،اختر مینگل کا دھماکہ خیز خطاب،سنگین سوالات کھڑے کر دیے

بلوچستان میں “ڈیتھ سکواڈز” کا الزام،اختر مینگل کا دھماکہ خیز خطاب،سنگین سوالات کھڑے کر دیے

by ahmedportugal
15 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)سربراہ بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) مینگل، اختر جان مینگل نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے اور مبینہ طور پر ماورائے قانون اقدامات،سیاسی عمل میں رکاوٹوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے اپنے خطاب میں سردار اختر مینگل نے ماضی کے سیاسی واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک منتخب حکومت کو ایسے الزامات کی بنیاد پر ختم کیا گیا جو بعد ازاں متنازع ثابت ہوئے،بلوچستان میں سیاسی عمل کو مسلسل کمزور کیا گیا اور ایسے عناصر کو فروغ دیا گیا جو جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچاتے رہے۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ صوبے میں ”ڈیتھ سکواڈز“ سرگرم ہیں جنہیں مبینہ طور پر مکمل آزادی حاصل ہے،یہ عناصر بغیر نمبر پلیٹ گاڑیوں میں گھومتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی جبکہ انہیں ریاستی وسائل تک رسائی بھی حاصل ہونے کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا ان گروہوں کے بارے میں کبھی کسی اسمبلی یا حکومتی سطح پر کھل کر بات کی گئی ہے۔اختر مینگل نے حالیہ واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ بعض علاقوں سے متعدد افراد کی لاشیں موصول ہو رہی ہیں جبکہ حکومتی سطح پر امن و امان کی صورتحال کو بہتر ظاہر کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اس تضاد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ زمینی حقائق اور سرکاری موقف میں واضح فرق دکھائی دیتا ہے۔انہوں نے خضدار کے علاقے زہری میں پیش آنے والے ایک واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے الزام لگایا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران ایک بزرگ قبائلی رہنما اور ان کے اہلِ خانہ کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا گیا،جس کے نتیجے میں ایک نوجوان جاں بحق ہوا۔ان کے مطابق اس واقعے کے بعد مقامی آبادی نے احتجاج کیا جس پر مزید کارروائیاں ہوئیں۔

اختر مینگل نے کہا کہ ایسے واقعات نہ صرف مقامی آبادی میں بے چینی پیدا کرتے ہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں۔انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر لوگوں کے ساتھ اس طرح کے واقعات پیش آئیں گے تو وہ مستقبل میں کس راستے کا انتخاب کریں گے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل طاقت کے استعمال میں نہیں بلکہ سیاسی مکالمے،شفاف طرز حکمرانی اور عوام کو حقیقی نمائندگی دینے میں ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کے تحفظات کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا،صوبے میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہو گا۔اختر مینگل نے حکومت اور ریاستی اداروں پر زور دیا کہ وہ بلوچستان کے حالات کا حقیقت پسندانہ جائزہ لیں اور ایسے اقدامات کریں جو عوام کے اعتماد کی بحالی کا سبب بن سکیں،بصورت دیگر صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز