مظفر آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بڑی ہلچل اس وقت دیکھنے میں آئی جب مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور سابق قائم مقام وزیراعظم راجہ عبدالقیوم خان کے پارٹی چھوڑنے اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئیں،جس سے نہ صرف سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیا ہے بلکہ آئندہ انتخابات کے تناظر میں نئی صف بندیاں بھی متوقع ہیں۔
ایگزو نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک اہم اور غیر معمولی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما،سابق سینئر وزیر اور سابق قائم مقام وزیراعظم راجہ عبدالقیوم خان کے پارٹی چھوڑنے اور استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں،جس سے خطے کی سیاسی فضا میں ہلچل مچ گئی ہے۔باخبر ذرائع کے مطابق راجہ عبدالقیوم خان آئندہ چند روز میں اپنے ہزاروں حامیوں اور قریبی سیاسی ساتھیوں کے ہمراہ باضابطہ طور پر استحکام پاکستان پارٹی میں شمولیت کا اعلان کریں گے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ عام انتخابات میں حلقہ کھاوڑہ سے نئی جماعت کے پلیٹ فارم سے حصہ لینے کا ارادہ رکھتے ہیں،جس سے اس حلقے میں انتخابی مقابلہ مزید دلچسپ ہونے کا امکان ہے۔اطلاعات کے مطابق راجہ عبدالقیوم خان نے آئندہ انتخابات کے لیے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ کے حصول کے لیے درخواست دی تھی تاہم پارٹی قیادت کی جانب سے ٹکٹ کسی اور امیدوار کو جاری کیے جانے کے بعد انہوں نے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔ذرائع کا دعویٰ ہے کہ ٹکٹوں کی تقسیم کے عمل میں نظر انداز کیے جانے اور سینئر قیادت کو مناسب اہمیت نہ دیے جانے پر ان میں ناراضی پائی جاتی تھی،جس کے نتیجے میں انہوں نے اپنی سیاسی حکمت عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔
راجہ عبدالقیوم خان کا شمار آزاد کشمیر کی سیاست کے تجربہ کار اور بااثر رہنماوں میں ہوتا ہے۔وہ ماضی میں سینئر وزیر اور قائم مقام وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور چار مرتبہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کر چکے ہیں۔2016 کے انتخابات میں بھی انہوں نے حلقہ کھاوڑہ سے مسلم لیگ ن کے ٹکٹ پر نمایاں کامیابی حاصل کی تھی۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ راجہ عبدالقیوم خان جیسے سینئر اور بااثر رہنما کی ممکنہ پارٹی تبدیلی نہ صرف مسلم لیگ ن کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے بلکہ استحکام پاکستان پارٹی کے لیے بھی ایک اہم تقویت کا باعث بنے گی۔ان کے مطابق اس پیش رفت کے اثرات بالخصوص مظفرآباد اور حلقہ کھاوڑہ کی سیاست پر نمایاں طور پر مرتب ہوں گے اور آئندہ انتخابات میں سیاسی صف بندی کو یکسر تبدیل کر سکتے ہیں۔دوسری جانب اس ممکنہ سیاسی تبدیلی کے بعد آزاد کشمیر کی مجموعی سیاسی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے جبکہ مختلف سیاسی حلقے اس پیش رفت کو آنے والے انتخابات کے تناظر میں نہایت اہم قرار دے رہے ہیں۔