Home » آزاد کشمیر میں داخلے پر عارضی پابندی،5 سے 20 جون تک سفری ایڈوائزری جاری،سیاحوں کو نکلنے کا حکم،حالات کشیدہ

آزاد کشمیر میں داخلے پر عارضی پابندی،5 سے 20 جون تک سفری ایڈوائزری جاری،سیاحوں کو نکلنے کا حکم،حالات کشیدہ

by ahmedportugal
9 views
A+A-
Reset

مظفر آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)حکومتِ آزاد جموں و کشمیر نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ممکنہ احتجاجی صورتحال کے پیش نظر ایک اہم اور غیر معمولی فیصلہ کرتے ہوئے عارضی سفری پابندیاں عائد کر دی ہیں۔5 سے 20 جون تک جاری رہنے والی اس ایڈوائزری کے تحت سیاحوں کو فوری طور پر علاقہ چھوڑنے اور نئے آنے والوں کو داخلے سے گریز کرنے کی ہدایت کی گئی ہے،جس سے واضح ہوتا ہے کہ حکام کسی بھی ممکنہ بدامنی یا عوامی خلل سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کر رہے ہیں۔اس فیصلے نے نہ صرف خطے کی سیاحتی سرگرمیوں کو متاثر کیا ہے بلکہ سیاسی و سماجی درجہ حرارت میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا ہے،جس کے باعث صورتحال کو قریب سے مانیٹر کیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق آزاد جموں و کشمیر حکومت نے خطے میں ممکنہ امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر 5 جون سے 20 جون تک کے لیے سفری ایڈوائزری جاری کرتے ہوئے سیاحوں اور دیگر غیر ضروری افراد کو علاقے میں داخل نہ ہونے کا مشورہ دیا ہے جبکہ موجودہ سیاحوں کو بھی 5 جون کی شام تک خطہ چھوڑنے کی ہدایت کی گئی ہے۔حکومتی اعلامیے کے مطابق یہ اقدام خطے میں ممکنہ احتجاجی سرگرمیوں اور عوامی مشکلات سے بچاو کے لیے اٹھایا گیا ہے جبکہ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایڈوائزری پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائیں۔

دوسری جانب حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی(جے اے اے سی)کے بیانیے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ کمیٹی عوامی مسائل کے نام پر گمراہ کن اور بے بنیاد پروپیگنڈا کر رہی ہے۔ترجمان کے مطابق حکومت نے مسائل کے حل کے لیے مذاکرات،ریلیف اور عملی اقدامات کا راستہ اپنایا تاہم کمیٹی نے مفاہمت کے بجائے دباو اور سڑکوں کی سیاست کو ترجیح دی۔حکام کا کہنا ہے کہ 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کیے جانے کے باوجود احتجاج پر اصرار عوامی مفاد کے بجائے سیاسی ضد کی عکاسی کرتا ہے۔ترجمان نے واضح کیا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا جمہوری حق ہے تاہم سڑکیں بند کرنا،نظام زندگی مفلوج کرنا اور قانون ہاتھ میں لینا ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اگر کسی قسم کی ہٹ دھرمی کے ذریعے امن و امان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی تو قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ترجمان کے مطابق ریاست میں استحکام،مکالمہ اور آئینی طریقہ کار ہی مسائل کا حل ہیں جبکہ اسمبلی کے فیصلوں کو سڑکوں کے دباو سے مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ 9 جون کو مجوزہ ہڑتال یا انتخابی عمل میں رکاوٹ ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو جمہوری عمل کو متاثر کرنے کے مترادف سمجھا جائے گا۔ حکومت نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ ہڑتالوں اور دباو کی سیاست کے بجائے ووٹ، مکالمے اور آئینی راستے کو ترجیح دیں۔یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے 9 جون کو ہڑتال کی کال دی گئی ہے، جس کے پیش نظر خطے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور حکومت نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے سخت موقف اختیار کر لیا ہے۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز