Home » آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ۔۔ اب ضرورت اتحادی جماعتوں کے اتحاد کی ہے

آزاد کشمیر انتخابات کا پہلا مرحلہ۔۔ اب ضرورت اتحادی جماعتوں کے اتحاد کی ہے

تحریر:امیر محمد خان

by ahmedportugal
48 views
A+A-
Reset

آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات ایک اور سیاسی مرحلہ مکمل کر چکے ہیں۔ہر انتخاب کی طرح اس بار بھی سیاسی جماعتوں نے بھرپور انتخابی مہم چلائی،عوام نے اپنے ووٹ کا حق استعمال کیا،کامیاب امیدواروں نے کامیابی کا جشن منایا جبکہ شکست خوردہ امیدواروں نے نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا۔بعض علاقوں میں بدانتظامی، جھڑپوں اور دھاندلی کے الزامات بھی سامنے آئے،جن کی تحقیقات متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہے۔میں نے پہلے بھی لکھا تھا کہ شائد اردو سے ناوقفیت کی بناء بلاول بھٹو دوران تقریر بڑے چھوٹے کا لحاظ کھو دیتے ہیں اور کچھ فیصد ان کی تقریرعمران خان کی زبان سے مماثلت کرنے لگتی ہے۔تھوڑا بہت مد مقابل مسلم لیگیوں کی دوسری کیٹگری کے لیڈران بھی “پٹری” سے اترتے سنے گئے۔

انتخابات جیتنا کسی بھی سیاسی جماعت کا آخری مقصد نہیں بلکہ اصل امتحان عوام کی خدمت،بہتر حکمرانی اور ریاست کی ترقی ہے۔آزاد کشمیر کے عوام گزشتہ کئی برسوں سے مہنگائی،بے روزگاری،بجلی کے نرخ،سیاحت،تعلیم،صحت اور بنیادی ڈھانچے جیسے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔ان مسائل کا حل صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے ممکن ہے،کالعدم ایکشن کمیٹی کی ”غیر ملکی سپانزرڈ“ تحریک کے شورشرابے کوبھی ہمارے سیکیورٹی اداروں نے اپنے انکام کو پہنچا دیا اور انتخابات کا پہلا مرحلہ مکمل ہوا  پھر بھی اس میں ملوث افراد کو راہ راست پر لانا اور انکے جائز مطالبات پر توجہ ضروری ہے،مسائل حل ہوں تو ”سپانزرڈ“ تحریکیں دم توڑ دیتی ہیں۔

مرکز بیٹھی اتحادی حکومت میں غیر فعال ساجھے دار 2018ءجس میں انہیں کچھ نشستیں ملیں،وہ کشمیر انتخابات اور اسکے علاوہ بھی وہ 2018ءکے انتخابات میں پی ٹی آئی کا بیانیہ لئے گھوم رہی ہیں۔سندھ میں عوام کی پریشانی اورسندھ میں اپنی کارکردگی نظر آتی اور دھمکی دے رہے ہیں کہ ہم حکومت کا ساتھ نہ دیں تو یہ حکومت ختم ہوجائے گی اور اگر انکی حکومت کے دائرہ اختیار میں کراچی کے مسائل کا ذکر کیا جائے تو انکی نااہلی نظر آتی ہے،نیز یہ سب جانتے ہیں کہ کراچی کی پی پی پی کی حکومت سزا ہی دے رہی ہے کہ کراچی میں خواہش کے باوجود بھی انکا ووٹ نہیں۔کشمیر کے کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں مسلم لیگ ن واضح برتری سے کامیاب ہو گئی ہے،مہاجرین کے انتخابات تو اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔وہاں ووٹ ہی مرکزی حکومت کو ہوتا ہے توبہتریہ ہی ہے گلگت سنبھالیں۔کشمیر کے انتخابات کے حتمی نتائج جو بھی ہوں مگر ضروری ہے کہ اپنی کرسی کی جنگ میں آزاد کشمیر کے عوام کو سزا نہ دیں۔

نئی حکومت کو سب سے پہلے سیاسی انتقام کی سیاست سے گریز کرنا ہو گا۔انتخابات ختم ہو چکے،اب مخالفین کو دشمن نہیں بلکہ جمہوری نظام کا حصہ سمجھنا ہو گا۔ اگر حکومت اور اپوزیشن ریاستی مفاد پر اکٹھے بیٹھ جائیں تو آزاد کشمیر کی ترقی کی رفتار کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔پاکستان کی مقبوضہ کشمیر کی پالیسی کی روشنی میں آزاد کشمیر میں ہنگامہ آرئی پاکستان کے آزادی کشمیرکی پالیسی کو سخت نقصان پہنچاتی ہے،بھارتی میڈیا اپنے ملک میںجاری طلباء اور کسانوں کی تحریک کو ایک طرف رکھ کر آزاد کشمیر کے مسائل پر زیادہ پروپگنڈہ کرتا ہے۔آزاد کشمیر کی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے سیاحت،پن بجلی،زراعت اور معدنی وسائل پر خصوصی توجہ دینا ضروری ہے۔

دنیا بھر میں مقیم کشمیری تارکین وطن سرمایہ کاری کے لیے تیار ہیں مگر انہیں شفاف نظام،اعتماد اور سہولتیں فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے۔تعلیم اور صحت کے شعبوں میں بھی بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں۔نوجوانوں کو جدید تعلیم،فنی تربیت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے بغیر ترقی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔باصلاحیت نوجوان اگر بے روزگار رہیں گے تو مایوسی بڑھے گی اور معاشرہ ترقی کے بجائے مسائل کا شکار ہو گا۔عوام کا اعتماد اسی وقت بحال ہو گا جب سرکاری وسائل کا درست استعمال ہو،ترقیاتی منصوبے میرٹ پر مکمل ہوں اور کرپشن کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے۔انتخابات کی تکمیل کے بعد عوام کی بھی ذمہ داری کم نہیں۔ انتخابات کے بعد سیاسی تقسیم کو ختم کرنا،برداشت کو فروغ دینا اور اپنے منتخب نمائندوں سے مسلسل کارکردگی کا مطالبہ کرنا ایک باشعور معاشرے کی علامت ہے۔ ووٹ صرف ایک دن ڈالنے کا نام نہیں بلکہ پانچ سال تک عوامی نگرانی بھی جمہوریت کا حصہ ہے۔

آزاد کشمیر ایک حساس خطہ ہے جس کی سیاسی،جغرافیائی اور سفارتی اہمیت پوری دنیا تسلیم کرتی ہے۔یہاں کی مضبوط جمہوریت،اچھی حکمرانی اور معاشی استحکام نہ صرف ریاست بلکہ پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں،منتخب نمائندے،سول سوسائٹی اور عوام مل کر ایک ایسے آزاد کشمیر کی تعمیر کریں،جہاں اختلاف ہو مگر دشمنی نہ ہو،سیاست ہو مگر نفرت نہ ہو اور ترقی ہر شہری تک پہنچے۔اس انتخابی مہم میں سیاسی قیادت بالخصوص مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کی شرکت نے انتخابی ماحول میں جان ڈال دی۔عام طور پر یہ رجحان رہا ہے کہ جس جماعت کی وفاق میں حکومت ہوتی ہے،وہی کشمیر اور گلگت بلتستان میں بھی حکومت بناتی ہے لیکن اس بار گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج میں ایسا نہیں ہوا اور مسلم لیگ (ن) جو مرکز کی حکمران جماعت ہے،وہاں دوسرے نمبر پر رہی۔ان نتائج نے یہ تاثر دیا کہ دہائیوں پرانی روایت کشمیر میں بھی ٹوٹ سکتی ہے مگر ایسا نظر نہیں آ رہا۔

یہ حقیقت ہے کہ عوامی مسائل کی بھر مار نے عوام کی انتخابات میں ووٹ ڈالنے کی حوصلہ افزائی نہیں ہے،اپنے ووٹرز کو ووٹ دینے پر رضامند کرنا سیاسی جماعتوں کا کام ہے مگر ایک دوسرے کو گالیاں نکال کر نہیں۔انتخابات کے بعد جو بھی حکومت بنے گی،اسے سب سے بڑا چیلنج عوام کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔آزاد کشمیر کے عوام کو صرف وعدوں سے نہیں بلکہ عملی اقدامات سے مطمئن کرنا ہو گا۔تعلیم،صحت،بجلی،پانی،روزگار اور انفراسٹرکچر جیسے بنیادی مسائل کا حل ترجیحی بنیادوں پر کرنا ہو گا۔اس کے علاوہ مواصلاتی راستے،سکولوں اور ہسپتالوں کی کمی،زرعی شعبے کی ترقی بھی نئی حکومت کی توجہ کا مرکز ہونی چاہیے۔عوام کی مایوسی کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ محسوس کرتے ہیں کہ سیاست دان صرف اقتدار کی دوڑ میں مصروف ہیں جبکہ ان کے روزمرہ کے مسائل یکسر نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔عوام کا ایکشن کمیٹی کیساتھ کھڑا ہونا بھی اسی غم و غصے کا عکاس تھا۔

اس کے ساتھ ساتھ، وفاقی حکومت کا کردار بھی اہم ہو گا۔آزاد کشمیر کا انحصار وفاقی گرانٹس اور ترقیاتی پیکجوں پر ہے اور اگر مرکزی حکومت تعاون کرتی ہے تو خطے کی ترقی تیز رفتاری سے ممکن ہے۔وزیراعظم پاکستان اور فوجی قیادت کے کشمیر سے جذباتی اور سٹریٹجک تعلقات کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ نئی کشمیری حکومت کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے تاہم مقامی سیاست میں پائے جانے والے اختلافات اور گروہ بندیوں کو بھی کم کرنا ہوگا تاکہ مشترکہ ایجنڈے پر سب متفق ہو سکیں۔یہ بات درست ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی نے انتخابی مہم کے دوران عوامی شعور کو بڑھانے میں کردار ادا کیا مگر طریقہ کار غلط تھا اور کالعدم کمیٹی کی لیڈر شپ ”دوسرں“کے ہاتھ میں کھیلنا شروع ہوگئی تھی۔آزاد کشمیر کے عوام کی توقع یہی ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی سمیت تمام سیاسی اور سماجی قوتیں ذاتی یا جماعتی مفادات سے بالاتر ہو کر ریاست کی ترقی،شفاف حکمرانی،سستی بجلی،بہتر تعلیم،صحت اور روزگار کے مواقع کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں۔یہی رویہ آزاد کشمیر کے بہتر مستقبل کی ضمانت بن سکتا ہے۔

نوٹ:ادارے کا معزز کالم نگار کی آراء سے متفق ہونا ضروری نہیں

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز