اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پالیسیوں کا عدم تسلسل ہے،کیونکہ حکومتوں کی تبدیلی کے ساتھ قومی منصوبوں اور پالیسی فریم ورک میں آنے والی تبدیلیوں نے ترقی کے سفر کو بار بار متاثر کیا۔
ایگزو نیوز کے مطابق اسلام آباد میں ”سٹریٹجک ڈائیلاگ اینڈ لانچ آف ڈویلپمنٹ ایڈووکیٹ پاکستان“ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال نے کہا کہ کسی بھی بڑے قومی منصوبے کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کیلئے کم از کم 10 سے 15 سال تک پالیسیوں کا تسلسل ضروری ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ وژن 2020 اور وژن 2025 جیسے منصوبے بھی سیاسی تبدیلیوں کے باعث اپنے مطلوبہ اہداف حاصل نہ کر سکے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اگر پالیسیوں میں استحکام نہ ہو تو بہترین منصوبے بھی کامیاب نہیں ہو سکتے،پاکستان کو اس وقت سب سے بڑا چیلنج ایک متاثرہ سماجی و اقتصادی ڈھانچے کا درپیش ہے،جس کے حل کیلئے معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ سماجی شعبوں میں بھی بہتری لانا ہوگی۔احسن اقبال نے کہا کہ پائیدار ترقی کیلئے تعلیم،صحت،آبادی،نوجوانوں اور خواتین کو ترقی کے بنیادی ستون کے طور پر آگے بڑھانا ہوگا،صرف معاشی اہداف حاصل کرنا کافی نہیں بلکہ سماجی اشاریوں میں بہتری کے بغیر حقیقی ترقی ممکن نہیں۔
وفاقی وزیر نے بڑھتی ہوئی آبادی کو بھی پاکستان کیلئے ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ رواں سال ملک کی آبادی تقریباً 26 کروڑ تک پہنچ چکی ہے،اگر آبادی میں اضافے کو موثر طریقے سے نہ روکا گیا تو 2050 تک یہ تعداد 37 سے 38 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ آبادی میں بے ہنگم اضافہ پانی،خوراک اور روزگار سمیت کئی شعبوں پر دباو بڑھا رہا ہے جبکہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث پانی اور غذائی تحفظ کو بھی شدید خطرات لاحق ہیں۔آبادی کو متوازن رکھنے کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر مربوط اقدامات کرنا ہوں گے۔احسن اقبال نے صحت کے شعبے میں درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان دنیا میں ہیپاٹائٹس سی کے مریضوں کی تعداد کے لحاظ سے پہلے نمبر پر ہے،ملک میں ایک کروڑ سے زائد افراد اس مرض سے متاثر ہیں۔انہوں نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے اسلام آباد اور ملحقہ علاقوں کو ہیپاٹائٹس فری ریجن بنانے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے صوبائی حکومتوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے علاقوں کو ہیپاٹائٹس سے پاک بنانے کیلئے وفاق کے ساتھ تعاون کریں۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ حکومت نے ”اڑان پاکستان“ پروگرام کے تحت ملک کو درپیش ساختی مسائل سے نمٹنے کیلئے جامع حکمت عملی اختیار کی ہے،جس کا مقصد معاشی استحکام،انسانی ترقی اور طویل المدتی قومی اہداف کا حصول ہے۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو ترقی کی مستقل رفتار برقرار رکھنے کیلئے سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر قومی پالیسیوں کے تسلسل،ادارہ جاتی اصلاحات اور انسانی ترقی پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔