کراچی(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے پاکستان کی ڈرامہ انڈسٹری کے زوال کی اصل وجہ بتا تے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان، جو کبھی عالمی سطح پر مقبول ڈرامے تخلیق کرتا رہا،آج بھی 80 سے 100 ڈرامے سالانہ بناتا ہے لیکن حکومتی سپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے فقدان کے باعث یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق کراچی میں’ ’اڑان پاکستان ، تخلیقی و ثقافتی معیشت“کے عنوان پر منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے احسن اقبال کا کہنا تھا کہ اڑان پاکستان کوئی وقتی مہم نہیں بلکہ ایک قومی عزم ہے،جس کے تحت ہم اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے لانے جا رہے ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت، ہم نے آٹھ اہم شعبہ جات کو برآمدات کی بنیاد پر شناخت کیا ہے،جن میں تخلیقی معیشت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے،پاکستان کا تخلیقی شعبہ بے پناہ امکانات رکھتا ہے لیکن اسے ماضی میں نظرانداز کیا گیا،یہ رات ایک نئے باب کا آغاز ہے،جہاں ہم اس شعبے میں سرمایہ کاری کریں گے،اسے پنپنے کا موقع دیں گے اور دنیا کے سامنے پاکستان کی نئی شناخت پیش کریں گے،یہ شعبہ نہ صرف ثقافتی سرمایہ بلکہ معاشی ترقی کا انجن بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں تخلیقی انڈسٹری 2.5 ٹریلین ڈالر کی معیشت بن چکی ہے،جس سے غیر ملکی زرمبادلہ اور قومی برانڈنگ حاصل کی جا رہی ہے،ترک ڈرامہ انڈسٹری اور بھارت کی 20 ارب ڈالر کی تخلیقی برآمدات اس ،پاکستان،جو کبھی عالمی سطح پر مقبول ڈرامے تخلیق کرتا رہا،آج بھی 80 سے 100 ڈرامے سالانہ بناتا ہے لیکن حکومتی سپورٹ اور بنیادی ڈھانچے کے فقدان کے باعث یہ شعبہ مشکلات کا شکار ہے،ہمیں ایسی پالیسیاں بنانے کی ضرورت ہے جو فنکاروں،لکھاریوں اور موسیقاروں کے حقیقی مسائل کو سمجھتے ہوئے ان کے لیے سازگار ماحول فراہم کریں۔
احسن اقبال نے اس شعبے کو ”سوفٹ پاور“ اور ”نیشن برانڈنگ“ کا اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہاجو قومیں دنیا کو اپنے بیانیے سے متاثر کرتی ہیں،وہی اصل اثر رکھتی ہیں،فلم،میوزک اور آرٹ، پالیسی دستاویزات سے زیادہ دلوں کو چھو سکتے ہیں،پاکستان کی کہانی کو دنیا تک پہنچانا ہمارا قومی فرض ہے،اگر پاکستان نے پائیدار ترقی حاصل کرنی ہے تو ہمیں سیاحت،فن،آئی ٹی اور تفریحی صنعت جیسے شعبوں کو معیشت کا مرکزی حصہ بنانا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ 2047 میں جب پاکستان اور بھارت آزادی کی 100 سالہ تقریبات منائیں گے تو ہمیں ایک ترقی یافتہ،تخلیقی اور پراعتماد پاکستان دنیا کو دکھانا ہو گا۔یہ سفر ہمارے فنکاروں،کہانی کاروں اور خواب دیکھنے والوں کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔وزارتِ منصوبہ بندی نے اس موقع پر تخلیقی معیشت کو قومی ترقی کے اہم ستون کے طور پر اجاگر کرنے کے عزم کا اعادہ کیا جو صرف برآمدات ہی نہیں بلکہ قومی شناخت، امید اور روشن مستقبل کی علامت بھی بنے گا۔تقریب کے اختتام پر وفاقی وزیر نے تمام سٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے، رکاوٹیں دور کرنے اور ایک سازگار ماحول فراہم کرنے کا عزم دہرایا۔