تہران(ایگزو نیوز ڈیسک)ایران کے مقتول سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی زخمی اہلیہ 79 سالہ منصورہ خجستہ باقرزادہ دورانِ علاج ہسپتال میں انتقال کر گئیں،وہ اسی مشترکہ امریکی اور اسرائیلی حملے میں شدید زخمی ہوئی تھیں جس میں آیت اللہ خامنہ ای مارے گئے تھے۔
ایرانی ریاستی میڈیا کے مطابق 86 سالہ آیت اللہ علی خامنہ ای اتوار کی صبح امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملوں میں ہلاک ہوئے۔بعد ازاں زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کی جانے والی ان کی اہلیہ جانبر نہ ہو سکیں اور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئیں۔ان کی موت کی باضابطہ تصدیق ایرانی حکام اور سرکاری میڈیا نے کی ہے تاہم حملے کی تفصیلات اور ہدف سے متعلق آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہو سکی۔ایرانی خبر رساں ادارے فارس نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ حملے میں سپریم لیڈر کے خاندان کے دیگر افراد بھی مارے گئے،جن میں ایک بیٹی،داماد اور ایک پوتا شامل ہیں۔حکام کے مطابق مزید اہل خانہ کے زخمی یا جاں بحق ہونے کی اطلاعات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
آیت اللہ علی خامنہ ای کئی دہائیوں تک ایران کے سب سے طاقتور رہنما رہے اور ملک کے مذہبی و سیاسی نظام میں کلیدی کردار ادا کرتے رہے۔ان کے دورِ قیادت میں ایران کا جوہری پروگرام عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا اور اسی معاملے پر امریکا اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا۔منصورہ خجستہ باقر زادہ 1947 میں ایران کے مذہبی شہر مشہد میں ایک مذہبی اور بااثر خاندان میں پیدا ہوئیں۔ان کے والد معروف تاجر تھے جبکہ ان کے بھائی حسن باقرزادہ ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر فائز رہ چکے تھے۔ان کی شادی 1965 میں آیت اللہ علی خامنہ ای سے ہوئی اور ان کے چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں۔منصورہ خجستہ باقرزادہ عمومی طور پر عوامی اور سیاسی سرگرمیوں میں کم نظر آتی تھیں اور زیادہ تر پسِ منظر میں رہیں۔ان کے انتقال کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت اور مذہبی حلقوں میں سوگ کی فضا پائی جا رہی ہے۔حالیہ واقعات نے خطے میں کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے جبکہ عالمی برادری کی جانب سے صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ ایرانی حکام نے حملے کو سنگین جارحیت قرار دیتے ہوئے ردعمل کے حق کو محفوظ رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔