اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان مسلم لیگ ن کی ضمنی انتخابات میں شاندار کامیابی کے بعد قومی اسمبلی میں نمبر گیم میں اہم تبدیلی واقع ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں حکمران جماعت اب پاکستان پیپلز پارٹی پر انحصار کے بغیر قانون سازی کر سکتی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق ضمنی انتخابات کے نتائج کے بعد حکمران جماعت کو مزید 6 نشستیں حاصل ہوئیں، جس سے قومی اسمبلی میں ان کی نشستوں کی تعداد بڑھ کر 132 ہو گئی جبکہ سادہ اکثریت کے لیے 169 اراکین کی ضرورت تھی، پیپلز پارٹی کے بغیر، حکومت کو اپنے اتحادی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ مل کر 170 ارکان کی حمایت حاصل ہے، جو سادہ اکثریت سے زیادہ ہے۔پیپلز پارٹی کی 74 نشستوں کے باوجود ایوان میں اس کا اتحادی کردار کمزور ہو گیا ہے اور حکومت اب خودمختار طور پر قانون سازی اور ایوان میں اپنے موقف کو مضبوطی سے پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ قومی اسمبلی میں دیگر اتحادی جماعتوں کی نشستیں مندرجہ ذیل ہیں، ایم کیو ایم 22، مسلم لیگ ق 5، استحکام پاکستان پارٹی 4 جبکہ مسلم لیگ ضیا، بی اے پی اور نیشنل پارٹی کے ایک ایک رکن موجود ہیں، آزاد ارکان کی تعداد 4 ہے۔ن لیگ کے لیے یہ صورتحال اہم ہے کیونکہ وہ اب دیگر اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر قانون سازی کے معاملات میں آزادانہ فیصلے کر سکتی ہے۔ اپوزیشن کے ارکان کی مجموعی تعداد 89 ہے جبکہ پی ٹی آئی حمایت یافتہ آزاد ارکان 75اور جے یو آئی کے 10 ارکان ہیں۔ بی این پی، پی کے میپ، ایم ڈبلیو ایم اور سنی اتحاد کونسل کے ایک ایک رکن ہیں، اور ایوان میں 3 نشستیں خالی ہیں۔اس ضمن میں مخصوص نشست پر منتخب خاتون رکن صدف احسان کو جے یو آئی نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، جس کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے۔ اسی طرح، این اے 175 مظفرگڑھ سے منتخب جمشید دستی کو جعلی ڈگری کی بنیاد پر نااہل قرار دیا گیا اور ان کا کیس لاہور ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے۔ این اے 1 چترال سے منتخب عبدالطیف کو نو مئی کیس میں نااہل کیا گیا ہے، اور معاملہ عدالت میں زیر التوا ہے۔پنجاب اور ہری پور کے ضمنی انتخابات میں ن لیگ کی یہ کامیابی نہ صرف ایوان میں حکومتی اکثریت کو مستحکم کرتی ہے بلکہ مستقبل میں اہم قانون سازی میں حکومت کو آزادانہ اور مضبوط پوزیشن بھی فراہم کرتی ہے۔ چھوٹی اتحادی جماعتوں کے تعاون سے حکومت اب بغیر پیپلز پارٹی کے بھی اپنا ایجنڈا ایوان میں پیش کر سکتی ہے، جو ملکی سیاسی منظرنامے میں اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔
ضمنی انتخابات میں ن لیگ کے کلین سویپ کے بعد حکومت کو پیپلز پارٹی کی بیساکھی سے آزادی مل گئی،بلاول زرداری کی اہمیت میں مزید کمی
20