کابل(ایگزو نیوز ڈیسک)افغانستان میں سیکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی دکھائی دے رہی ہے،جہاں مختلف علاقوں میں طالبان مخالف حملوں میں اضافے کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں۔اسی تناظر میں شمالی صوبہ فریاب سے ایک نئے مسلح گروپ ”لبریشن فرنٹ“ کے قیام کا دعویٰ بھی کیا گیا ہے،جس نے بعض حالیہ کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا بھی کہا ہے۔مبصرین کے مطابق یہ پیش رفت ملک میں مزاحمتی سرگرمیوں کے پھیلاو اور ممکنہ طور پر مختلف گروہوں کے درمیان رابطوں کی جانب اشارہ کرتی ہے تاہم ان دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق تاحال سامنے نہیں آ سکی ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کے دائرہ کار میں وسعت آنے کے دعوے سامنے آئے ہیں،جہاں ذرائع کے مطابق شمالی صوبہ فریاب میں گل محمد پہلوان کی قیادت میں طالبان مخالف ایک نئے مسلح گروپ ”جبہ راہِ بخش لبریشن فرنٹ“ کے قیام کا اعلان کیا گیا ہے۔بتایا جا رہا ہے کہ یہ گروپ آئندہ چند روز میں باضابطہ اعلامیہ جاری کرے گا،جس میں تنظیمی ڈھانچے،قیادت،مقاصد اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق تفصیلات فراہم کی جائیں گی۔ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں فریاب میں طالبان پر ہونے والے ایک حملے کی ذمہ داری اسی مبینہ لبریشن فرنٹ کے جنگجووں نے قبول کی ہے جبکہ ضلع غورمچ میں بھی طالبان کے خلاف ایک اور کارروائی کی اطلاعات ہیں۔اس کے علاوہ صوبہ بدخشان کے اضلاع یفتل،زیبک اور ارگو میں بھی گزشتہ ہفتوں کے دوران طالبان مخالف سرگرمیوں کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔اسی طرح بغلان کے ضلع دوشی میں طالبان کے ایک قافلے پر حملے اور بدخشان میں متعدد چوکیوں کو نشانہ بنانے کی ذمہ داری بھی مختلف مزاحمتی گروپوں کی جانب سے قبول کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ان پیش رفتوں کے حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سرگرمیاں طالبان مخالف گروہوں کے دائرہ کار میں اضافے اور مختلف دھڑوں کے درمیان ممکنہ ہم آہنگی کی نشاندہی کرتی ہیں۔اس سے قبل افغانستان یونائیٹڈ فرنٹ کے سربراہ جنرل سمیع سادات طالبان حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا اعلان کر چکے ہیں جبکہ افغانستان فریڈم فرنٹ سے وابستہ جنرل یاسین ضیا بھی مزاحمتی کارروائیوں میں شدت لانے کے عزم کا اظہار کر چکے ہیں۔طالبان مخالف حلقوں کے مطابق ملک میں تعلیم، روزگار اور انسانی حقوق سے متعلق پابندیوں،مبینہ نسلی امتیاز اور بدعنوانی کے الزامات کے باعث عوامی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے،جس کے نتیجے میں مزاحمتی سرگرمیوں میں تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ذرائع یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ افغان شہریوں کی یورپی ممالک کی جانب نقل مکانی میں حالیہ عرصے کے دوران نمایاں اضافہ ہوا ہے تاہم گزشتہ تین ماہ کے دوران 186 سابق افغان فوجیوں کے قتل سمیت ان حملوں اور دیگر دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی جبکہ طالبان حکومت کی جانب سے بھی ان الزامات اور رپورٹس پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔