Home » افغانستان میں دہشت گرد،پاکستان میں بے گناہوں کا خون،علامہ طاہر اشرفی نے بڑا سوال اٹھا دیا

افغانستان میں دہشت گرد،پاکستان میں بے گناہوں کا خون،علامہ طاہر اشرفی نے بڑا سوال اٹھا دیا

by ahmedportugal
31 views
A+A-
Reset

لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)چیئرمین پاکستان علما کونسل اور قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کوآرڈینیٹر علامہ حافظ محمد طاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد پاکستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جبکہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے شہریوں کی جان و مال اور قومی سلامتی کے تحفظ کا بھی حق رکھتا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق صوبائی دارالحکومت میں ازبکستان سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ طاہر محمود اشرفی نے قومی پیغامِ امن کمیٹی کی سرگرمیوں، ملک میں امن و استحکام کے فروغ اور دہشت گردی و انتہاپسندی کے خلاف علما و مشائخ کے کردار پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی ملک بھر میں امن، محبت،رواداری،باہمی احترام،قومی وحدت اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سرگرمِ عمل ہے،قومی پیغام امن کمیٹی نے معاشرے کے مختلف طبقات تک امن اور برداشت کا پیغام پہنچانے کے ساتھ انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط قومی بیانیے کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے علما و مشائخ دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف واضح اور دوٹوک موقف رکھتے ہیں اور مذہبی قیادت نے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے عملی کردار ادا کیا ہے،علما و مشائخ نے خودکش حملوں،بم دھماکوں اور بے گناہ افراد کے قتل کی کھل کر مخالفت کی اور ایسے اقدامات کے خلاف فتاویٰ بھی جاری کیے،جن کا مقصد دہشت گردی کے خلاف معاشرے میں واضح مذہبی اور اخلاقی موقف کو مضبوط بنانا تھا۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے افغانستان کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان پاکستان کا پڑوسی اور برادر اسلامی ملک ہے جبکہ پاکستان نے کئی دہائیوں تک افغان عوام کی میزبانی کی ہے،اس طویل عرصے کے باہمی تعلق کے باوجود افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر پاکستان میں بے گناہ شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں،جس سے خطے کے امن و استحکام کو بھی خطرات لاحق ہیں۔انہوں نے حالیہ کوہاٹ دہشت گرد حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حملے میں ملوث ایک خودکش حملہ آور کے افغان شہری ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں اور یہ سوال اہم ہے کہ افغانستان سے آنے والے دہشت گرد پاکستان میں کب تک بچوں اور بے گناہ شہریوں کو نشانہ بناتے رہیں گے؟۔ دستیاب رپورٹس کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے حملے کے ایک خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ دوسرے حملہ آور کی شناخت کا عمل جاری بتایا گیا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی کا کہنا تھا کہ افغانستان سے پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کا معاملہ محض دو ممالک کے درمیان ایک سکیورٹی مسئلہ نہیں بلکہ پورے خطے کے امن سے جڑا ہوا معاملہ ہے،اس لیے خطے کے ممالک اور عالمی برادری کو صورتحال پر سنجیدگی سے غور کرنا ہو گا۔انہوں نے زور دیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے اور خطے میں کشیدگی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے پرامن ماحول کا خواہاں ہے تاہم ریاست کی بنیادی ذمہ داری اپنے شہریوں کی جان و مال کا تحفظ اور ملک کی قومی سلامتی کو یقینی بنانا بھی ہے،امن کی خواہش کے ساتھ قومی سلامتی کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

قومی پیغامِ امن کمیٹی کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ کمیٹی کا مقصد ملک میں امن،اتحاد،قومی یکجہتی،بین المسالک ہم آہنگی اور بین المذاہب رواداری کو فروغ دینا ہے،مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے علما و مشائخ اور مختلف مذاہب کے نمائندے اس کوشش کا حصہ ہیں اور معاشرے میں برداشت،مکالمے اور باہمی احترام کی فضا پیدا کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مختلف مذاہب اور مسالک سے تعلق رکھنے والے افراد ملک کے امن و استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں اور قومی وحدت کو مضبوط بنانے کے لیے مذہبی قیادت کا کردار نہایت اہم ہے،معاشرے میں مذہبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کا فروغ دہشت گردی،انتہاپسندی اور نفرت کے رجحانات کا مقابلہ کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔

حافظ طاہر محمود اشرفی نے کہا کہ قومی پیغامِ امن کمیٹی اسی سوچ کی عملی عکاس ہے کہ ملک میں پائیدار امن کے لیے تمام مکاتبِ فکر اور مذاہب کے لوگوں کو مشترکہ طور پر اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،علما و مشائخ امن،اتحاد،رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھیں گے۔انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ صرف ریاستی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کو اس چیلنج کا مقابلہ کرنا ہو گا،مذہبی قیادت،سیاسی و سماجی حلقے، ذرائع ابلاغ اور عوام اگر امن،برداشت اور قومی اتحاد کے فروغ کے لیے مشترکہ کردار ادا کریں تو انتہاپسندی کے خلاف قومی بیانیے کو مزید مضبوط بنایا جا سکتا ہے۔حافظ طاہر محمود اشرفی کی گفتگو ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کوہاٹ پولیس لائنز میں ہونے والے دہشت گرد حملے کے بعد پاکستانی حکام نے افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف موثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔پاکستانی حکام کے مطابق حملے میں ایک خودکش حملہ آور کی شناخت افغان شہری کے طور پر ہوئی ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔حافظ طاہر محمود اشرفی نے واضح کیا کہ پاکستان امن، رواداری اور ہم آہنگی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا تاہم ملک کے شہریوں کی جان و مال اور قومی سلامتی کا تحفظ بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے دہشت گردی کے اسباب اور ان کے نیٹ ورکس سے سنجیدگی کے ساتھ نمٹنا ہوگا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز