کابل(ایگزو نیوز ڈیسک)افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے ایرانی مصنفات کی سینکڑوں کتابیں بشمول فرقہ وارانہ اور انتہائی متنازعہ مواد،ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں سے بھی درجنوں اہم مضامین ختم یا محدود کر دیے گئے ہیں۔اس اقدام کا مقصد افغان حکومت کے نظریات کے مطابق تعلیم فراہم کرنا اور مغربی اثرات کو روکنا بتایا جا رہا ہے،جس سے نہ صرف خواتین کی علمی شرکت محدود ہوئی بلکہ تنقیدی سوچ اور جدید علوم کی رسائی بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے ایرانی مصنفات کی سینکڑوں کتابیں ممنوع قرار دی گئی ہیں اور یونیورسٹیوں کے نصاب میں درجنوں اہم مضامین ختم یا محدود کر دیے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد طالبان کے نظریات کے مطابق تعلیم فراہم کرنا اور مغربی اثرات کو روکنا بتایا جا رہا ہے،جس سے نہ صرف خواتین کی علمی شرکت محدود ہوئی بلکہ تنقیدی سوچ اور جدید علوم کی رسائی بھی متاثر ہونے کے خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں۔عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق افغانستان میں طالبان حکومت نے 2025 کے دوران کتابوں،نصاب اور علمی مواد پر پابندیوں کا دائرہ بے حد وسیع کر دیا ہے،جس سے تعلیمی آزادی شدید متاثر ہوئی ہے۔ طالبان نے جامعات، لائبریریوں اور بک شاپس میں ممنوعہ کتابوں کی فہرستیں جاری کیں اور نصاب میں درجنوں مضامین ختم کر دیے جبکہ 200 سے زائد مضامین کو محدود یا مشروط کر دیا گیا۔افغان حکومت کے تحت پابندی والے مضامین میں انسانی حقوق،جمہوریت،آئینِ افغانستان،سیاسی نظام،انتخابی نظام،صنفی مطالعہ،خواتین کی عمرانیات،اخلاقی فلسفہ،تاریخِ مذاہب،عالمی سیاست اور جدید علوم شامل ہیں،خاص طور پر خواتین اور ایرانی مصنفین کی فرقہ وارانہ تصانیف پر سخت پابندی عائد کی گئی اور یونیورسٹیوں میں ان کی کتابیں پڑھانے پر عملاً مکمل روک لگ گئی۔
افغان حکومت کا موقف ہے کہ یہ مضامین شریعت اور اسلامی امارت کی پالیسیوں کے خلاف ہیں جبکہ پابندیاں صرف کتابوں تک محدود نہیں رہیں اور بعض سرکاری اہلکار اپنی صوابدید سے کتب ضبط کر لیتے ہیں۔نئی کتابوں کی اشاعت کے لیے بھی حکومت سے پیشگی اجازت ضروری قرار دی گئی ہے،جس سے اشاعتی عمل مزید محدود ہو گیا۔رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ متاثرہ شعبے قانون،سیاسیات، پبلک ایڈمنسٹریشن،عمرانیات،صحافت، نفسیات شریعت، زبان و ادب، تاریخ،جغرافیہ، معاشیات اور آرٹس ہیں۔پابندیوں کے نتیجے میں نہ صرف تعلیمی مواد محدود ہوا بلکہ خواتین کی علمی شرکت اور تنقیدی فکر کو بھی سخت نقصان پہنچا ہے۔افغان حکومت کے مطابق یہ اقدامات مغربی اثرات اور غیر اسلامی تعلیمی رجحانات کو روکنے کے لیے کیے گئے ہیں تا کہ نوجوان نسل صرف وہی علم حاصل کرے جو قرآن و سنت کے مطابق ہو۔