اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک) وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان سے متعلق سیکیورٹی صورتحال، پاک افغان تعلقات اور دہشت گردی کے چیلنجز پر تفصیلی موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال کسی صورت قابل قبول نہیں،اس مسئلے کے باعث ملک کو بھاری جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے جبکہ فوج اور سویلین کی قربانیاں مسلسل جاری ہیں۔ خواجہ آصف نے زور دیا کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے ریاستی سطح پر جامع اور مربوط حکمت عملی ناگزیر ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق قومی اسمبلی کے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے افغانستان کی صورتحال، پاک افغان تعلقات اور ملکی سیکیورٹی چیلنجز پر تفصیلی اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کے استعمال کے باعث 2022 سے اب تک پاکستان کے ہزاروں فوجی جوان اور شہری شہید ہو چکے ہیں جبکہ پاکستان کا موقف واضح ہے کہ افغان سرزمین کسی بھی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔انہوں نے مولانا فضل الرحمان کے ایک بیان کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مولانا صاحب ہمارے بزرگ اور قابل احترام ہیں تاہم بعض امور پر غلط فہمیاں پیدا کی جا رہی ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ وہ خود دو مرتبہ افغانستان جا چکے ہیں اور وہاں افغان قیادت کے ساتھ تفصیلی مذاکرات ہوئے،جن میں دونوں فریقین نے بات چیت کی۔
وزیر دفاع کے مطابق افغان قیادت مذاکرات میں تعاون کرتی رہی تاہم وہ تحریری معاہدے سے گریزاں رہی۔انہوں نے بتایا کہ بعض مراحل پر 10 ارب روپے کے مطالبات بھی سامنے آئے جبکہ افغان حکومت کی جانب سے یہ شرط رکھی گئی کہ آبادکاری کے بعد واپس نہ آنے کی ضمانت دی جائے۔انہوں نے کہا کہ وہ صرف افغانستان میں امن اور اس بات کے خواہاں ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔خواجہ آصف کے مطابق پاکستان نے گزشتہ 40 سے 50 سال تک افغان بھائیوں کی مہمان نوازی کی ہے۔انہوں نے مزید بتایا کہ افغان قیادت سے ملاقاتیں کابل کے علاوہ ترکیہ اور قطر میں بھی ہوئیں،جہاں اعلیٰ سطح مذاکرات میں قطری حکام بھی موجود تھے۔ان کے مطابق ان مذاکرات میں ملا عمر کے صاحبزادے افغان وفد کی قیادت کر رہے تھے۔
وزیر دفاع نے ایک اور دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ جنرل فیض کی جانب سے بھیجے گئے بعض افراد قانون سازی سے متعلق اجلاس کے دوران اسد قیصر کی رہائش گاہ پر موجود تھے،جہاں وہ سیاسی معاملات پر اثرانداز ہونے کی کوشش کرتے رہے۔انہوں نے کہا کہ خطے میں امن کے لیے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اور گزشتہ ایک سال کے دوران دو اہم مراحل طے ہوئے ہیں جن سے عالمی سطح پر پاکستان کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔اس عمل میں افواجِ پاکستان،فیلڈ مارشل،وزیراعظم شہباز شریف اور ان کی ٹیم نے اہم کردار ادا کیا۔خواجہ آصف نے بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران پاک فوج کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ افواج کے حوصلے انتہائی متاثر کن تھے۔ان کے مطابق وقت کے ساتھ ریاست اور قوم میں اعتماد بحال ہوا ہے۔انہوں نے ایوان کو بتایا کہ حالیہ دنوں میں فوجی اور سویلین جنازے بھی اٹھائے گئے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال کے باعث کئی علاقے غیر محفوظ ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیکیورٹی ایک اجتماعی ذمہ داری ہے اور اس کے حل کے لیے سب کو مل کر کام کرنا ہو گا۔وزیر دفاع نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ آج یا کل کا نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے جاری چیلنج ہے،جس کے حل کے لیے اجتماعی سیاسی اور ریاستی کوششوں کی ضرورت ہے۔