اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد حکومت نے عادل راجہ کے خلاف انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کی شق 11EE کے تحت پابندی عائد کر دی ہے، جس کے بعد وزارتِ داخلہ نے اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق عادل راجہ کا نام فورتھ شیڈول میں شامل کر لیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ان کی سرگرمیوں پر کڑی نگرانی اور قانونی پابندیاں لاگو ہو گئی ہیں۔
وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق یہ اقدام عادل راجہ کے مبینہ طور پر ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہونے اور سوشل میڈیا کے ذریعے ریاست کے خلاف بیانیہ پھیلانے کے الزامات کی بنیاد پر اٹھایا گیا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ دستیاب شواہد اور سکیورٹی اداروں کی رپورٹس کی روشنی میں یہ فیصلہ کیا گیا تاکہ قومی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کو یقینی بنایا جا سکے۔وفاقی کابینہ نے پابندی کی منظوری دیتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ قانون کے تحت کسی بھی ایسے فرد یا گروہ کے خلاف فوری اور موثر کارروائی کی جائے گی جو ریاست، آئین اور قومی اداروں کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث پایا جائے۔ کابینہ کے مطابق انسدادِ دہشتگردی ایکٹ کے تحت اقدامات کا مقصد آزادیِ اظہار کی آڑ میں ریاست مخالف مہمات کی حوصلہ شکنی اور قومی سلامتی کے تقاضوں کا تحفظ ہے۔سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونے کے بعد متعلقہ فرد پر سفری پابندیاں، مالی نگرانی اور دیگر قانونی تقاضے لاگو ہو جاتے ہیں، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس کی سرگرمیوں کی کڑی نگرانی کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔حکومتی حلقوں کے مطابق یہ اقدام ریاست کی سلامتی، آئینی حدود اور قانونی بالادستی کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے یہ پیغام دیا گیا ہے کہ ریاست مخالف سرگرمیوں اور اشتعال انگیز بیانیے کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر عمل جاری رکھا جائے گا۔
ریاست مخالف بیانیہ مہنگا پڑ گیا،وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد عادل راجہ فورتھ شیڈول میں شامل
8