Home » بے انصافی دہشتگردی کو جنم دیتی ہے،فیصلہ کرنا ہو گا،ملک فوج کے لیے یا فوج ملک کے لیے؟محمود اچکزئی نے ریاستی ڈھانچے پر بڑے سوال اٹھا دیے

بے انصافی دہشتگردی کو جنم دیتی ہے،فیصلہ کرنا ہو گا،ملک فوج کے لیے یا فوج ملک کے لیے؟محمود اچکزئی نے ریاستی ڈھانچے پر بڑے سوال اٹھا دیے

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

اسلام آباد(ایگزو نیوز ڈیسک)قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے ریاستی ڈھانچے،جمہوری عمل اور طاقت کے توازن پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھاتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مسلسل بے انصافی اور اختیارات کے عدم توازن نے ملک کو خطرناک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ اگر ریاستی ادارے آئینی حدود میں رہ کر کردار ادا نہ کریں اور عوامی حقوق کو یقینی نہ بنایا گیا تو یہ صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی ہے،جس کے اثرات قومی یکجہتی اور داخلی استحکام پر مرتب ہوں گے۔
ایگزو نیوز کے مطابق تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے دارالحکومت میں منعقدہ آل پارٹیز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملک کے سیاسی،آئینی اور انتظامی ڈھانچے پر اہم سوالات اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان ایک رضاکارانہ وفاق ہے جو مختلف قومیتوں پر مشتمل ہے اور اس کی بقا آئین کی بالادستی،جمہوری اصولوں اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے مشروط ہے۔انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان کے بعد سے آئین سازی کے عمل کو مسلسل رکاوٹوں کا سامنا رہا،جس کے نتیجے میں سیاسی عدم استحکام پیدا ہوا اور بالآخر ملک ٹوٹنے جیسے سانحے سے بھی دوچار ہوا،1973 کا آئین بڑی جدوجہد کے بعد وجود میں آیا،جس نے ایک متفقہ فریم ورک فراہم کیا تاہم اس پر بھی مکمل عملدرآمد نہیں ہو سکا۔

محمود اچکزئی نے جمہوریت کو ایک قابلِ عمل نظام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ یہ کامل نہیں مگر اس کا بنیادی اصول یہ ہے کہ طاقت اور فیصلہ سازی الگ رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی نظام میں عسکری اور سیاسی دائرہ کار کی واضح حد بندی ضروری ہے تاکہ ادارہ جاتی توازن برقرار رہے۔انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کے لیے مضبوط فوج اور موثر انٹیلی جنس نظام ناگزیر ہیں تاہم ان اداروں کو آئینی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے،جب بھی ان معاملات پر سوال اٹھایا جاتا ہے تو اسے غلط انداز میں پیش کیا جاتا ہے،حالانکہ یہ ریاستی بہتری کے لیے ضروری مکالمہ ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے ملک کے مختلف علاقوں،بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں جاری کشیدگی اور بدامنی کے عوامل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاستی ادارے اتنے کمزور نہیں کہ وہ مسائل کی نشاندہی نہ کر سکیں،اس لیے اصل مسئلہ ترجیحات اور پالیسیوں کا ہے۔

محمود اچکزئی نے وسائل کی منصفانہ تقسیم پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں کے قدرتی وسائل پر پہلا حق مقامی آبادی کا ہونا چاہیے،جس سے احساسِ محرومی کم ہو گا اور قومی یکجہتی کو فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ جب تک اس اصول کو تسلیم نہیں کیا جاتا،مسائل جوں کے توں رہیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں بڑھتی ہوئی بے انصافی نفرت اور تقسیم کو جنم دیتی ہے،جو بالآخر شدت پسندی کی صورت اختیار کر سکتی ہے۔ان کے مطابق اگر دہشتگردی کی وجوہات کو درست تناظر میں نہ دیکھا گیا تو صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔قائد حزب اختلاف نے آئینی ترامیم، خصوصاً حالیہ ترامیم پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتوں نے مصلحت کا شکار ہو کر ایسے فیصلے کیے جن سے جمہوری ادارے کمزور ہوئے۔انہوں نے اعتراف کیا کہ سیاسی قیادت کو بھی اپنی غلطیوں کا جائزہ لینا ہو گا۔انہوں نے دو ایوانی پارلیمانی نظام کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سینیٹ کو مزید اختیارات دیے جائیں تاکہ تمام اکائیوں کی مساوی نمائندگی یقینی بنائی جا سکے اور وفاقی توازن برقرار رہے۔محمود اچکزئی نے حکومت،ریاستی اداروں اور سیاسی قیادت سے مطالبہ کیا کہ وہ آئین کی پاسداری، عوامی حقوق کے تحفظ اور ادارہ جاتی حدود کے احترام کو یقینی بنائیں، اگر تمام فریقین اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں اور اصلاحات کی طرف پیش رفت کریں تو پاکستان مستحکم اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے،بصورت دیگر مسائل مزید گھمبیر ہو سکتے ہیں۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز