لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)پاکستان کی سیاست میں اس وقت شائستگی نہیں بلکہ کھری اور کڑوی باتوں کا دور لوٹ آیا ہے، اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے اسٹیبلشمنٹ،عدلیہ اور سیاسی اشرافیہ کو ایک ہی صف میں لا کھڑا کرتے ہوئے ایسے سوالات اٹھا دیے ہیں جو برسوں سے دبائے جاتے رہے”لعنت ہو ایسے قلعے پر جہاں اسلام قید ہو“جیسے جملوں کے ذریعے انہوں نے محض تنقید نہیں کی بلکہ موجودہ ریاستی ڈھانچے کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا،8 فروری کے احتجاج کی کال،آئین شکنی کے الزامات،لوٹے گئے مینڈیٹ کا مطالبہ اور مذاکرات،مزاحمت اور انقلاب کے بیچ واضح لکیر کھینچ کر محمود اچکزئی نے یہ پیغام دے دیا ہے کہ اب یہ جدوجہد بیانات تک محدود نہیں رہے گی بلکہ ملکی نظام کے مستقبل کا فیصلہ سڑکوں، عدالتوں اور عوامی دباو سے ہو گا۔
ایگز ونیوز کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کراچی شہدا ہال میں پی ٹی آئی ویمن ونگ کی تقریب سے اپنے کڑک دار خطاب میں اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے سربراہ محمود خان اچکزئی نے 8 فروری کو ملک گیر احتجاج کی کال دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں آج تک کسی جرنیل،جج یا سیاست دان کو آئین کی خلاف ورزی پر سزا نہیں دی گئی،جو ریاستی نظام پر ایک سنگین سوالیہ نشان ہے،ملک کو اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ اس قلعے میں اسلام قید ہو کر رہ گیا ہے۔محمود خان اچکزئی نے خواتین کے حقوق پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج کے حالات میں یہ دعویٰ نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں خواتین آزاد ہیں،صرف دوپٹہ پہنانا یا بازاروں میں جانے سے روکنا عورت کے حقوق کا نعم البدل نہیں،اسلام نے عورت کو بلند مقام دیا،جنت ماں کے قدموں تلے رکھی مگر بلوچ سردار،پنجابی چوہدری،سندھی وڈیرے اور پشتون معاشرے آج بھی عورت کو اس کا مکمل حق دینے کو تیار نہیں۔
انہوں نے موجودہ سیاسی صورتحال پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آج ہر شخص”قیدی نمبر 804“ اور ”کون بچائے گا پاکستان، عمران خان“ کے نعرے لگا رہا ہے، تحریک انصاف کو اس وقت عوامی حمایت حاصل ہے جو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کسی جماعت کو نصیب نہیں ہوئی،اس کے باوجود عمران خان جیل میں ہیں تاہم انہوں نے واضح کیا کہ اس کی ایک بڑی وجہ پی ٹی آئی کے اندر نظم و ضبط کی کمی ہے،جہاں ہر سو افراد میں ایک خود ساختہ لیڈر موجود ہے مگر اس کے باوجود سب عمران خان پر متفق ہیں۔محمود اچکزئی نے کہا کہ اگر کوئی یہ تسلیم کرتا ہے کہ غلطی ہوئی ہے تو مذاکرات کا راستہ کھلا ہے مگر مذاکرات اسی صورت ممکن ہیں جب مینڈیٹ کی چوری کو تسلیم کیا جائے،ایک جماعت سے انتخابی نشان چھینا گیا،سخت سزائیں سنائی گئیں اور پھر توقع کی جا رہی ہے کہ عوام اس نظام کو بادشاہت کے طور پر قبول کر لیں جو ممکن نہیں۔انہوں نے انتخابی عمل کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے 400 مختلف نشانات پر الیکشن لڑا،کہیں گائے، کہیں گھوڑا،کہیں بلی اور کہیں ڈھولک اور رباب کے نشانات تھے مگر اس کے باوجود پاکستان کی نوجوان نسل نے پورے نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ان کا کہنا تھا کہاس وقت جو کچھ اس ملک میں ہو رہا ہے،وہ تو کوئی قابض فوج بھی نہ کر سکے۔محمود خان اچکزئی نے دفعہ 144 کے نفاذ اور مظاہرین پر فائرنگ کو بھی آئین شکنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ جب ظلم کرنے والا اور انصاف کرنے والا ایک میز پر بیٹھ جائیں تو انصاف کہاں سے ملے گا؟انہوں نے واضح کیا کہ اگر 8 فروری کو ہونے والی مبینہ انتخابی دھاندلی کو تسلیم کیا جاتا ہے تو مذاکرات ہو سکتے ہیں مگر اس شرط پر کہ لوٹا گیا مینڈیٹ واپس کیا جائے اور جرنیل،شہباز شریف،نواز شریف اور آصف زرداری سب اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔آخر میں انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا جمہوریت زندہ باد، آمریت مردہ باد اور اعلان کیا کہ آئین توڑنے والوں کو ہر صورت سزا ملنی چاہیے۔