لاہور(ایگزو نیوز ڈیسک)اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملکی سیاست میں فیصلہ کن موڑ کا اعلان کرتے ہوئے 8 فروری کو ملک گیر پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال کی کال پر عوامی شرکت کی بھرپور اپیل کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اگر عوام سڑکوں پر نکل آئے اور عوامی راج قائم ہوا تو عمران خان کی رہائی ناگزیر ہو جائے گی۔زمان پارک کے باہر کارکنوں اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے ”ووٹ کو عزت دو“ کے بیانیے کو دوبارہ زندہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نواز شریف کو مل کر چلنے کی دعوت دی اور کہا کہ آئین کی بالادستی،شفاف جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے تحفظ کے لیے اب فیصلہ کن مزاحمت کا وقت آ چکا ہے۔
ایگزو نیوز کے مطابق اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کو فیصلہ کن مرحلہ قرار دیتے ہوئے مسلم لیگ ن کے صدر اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو مل کر چلنے کی دعوت دی ہے اور عوام سے اپیل کی ہے کہ 8 فروری کو گھروں سے نکل کر سڑکوں پر آ جائیں،اگر عوامی طاقت پوری شدت کے ساتھ سامنے آئی تو حکومت کو بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی پر مجبور ہونا پڑے گا۔لاہور میں زمان پارک کے باہر نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ وہ جس جی ٹی روڈ سے لاہور پہنچے ہیں اسی راستے سے کبھی نواز شریف بھی ریلی کی صورت میں آئے تھے اور ”ووٹ کو عزت دو“ کا نعرہ لگایا تھا۔ انہوں نے نواز شریف کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آئیں اور ایک بار پھر اسی نعرے کو تقویت دیں تا کہ آئین اور عوام کی بالا دستی بحال ہو سکے۔محمود خان اچکزئی نے کہا کہ اگر تمام اپوزیشن جماعتیں اور عوام متحد ہو جائیں تو عمران خان جیل سے باہر آئیں گے اور ملک آگے بڑھے گا۔ انہوں نے پولیس سے اپیل کی کہ وہ صرف آئین اور قانون کے مطابق احکامات پر عمل کرے،ہم نہ پتھر لے کر نکلے ہیں،نہ ڈنڈے اور نہ ہی اسلحہ،اس کے باوجود ہمارے کارکنوں پر تشدد کیا گیا اور گرفتاریاں کی گئیں،ہم ظلم کے خلاف نکلے ہیں،کسی کی ماں بہن کو گالی دینے یا بدتمیزی کرنے نہیں آئے،لاہور پاکستان کا دل ہے اور ہم اپنے ہی شہر میں پرامن انداز میں پہنچے ہیں۔
قرآن کریم کے احکامات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شرک کے بعد کسی بے گناہ انسان کا قتل سب سے بڑا گناہ ہے مگر ہمارے ملک میں انسانی جان کی کوئی قدر نہیں رہی،امریکہ میں ایک سیاہ فام کے قتل پر کروڑوں لوگ سڑکوں پر نکل آتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بچوں کے قتل،خواتین کی بے حرمتی اور شہریوں پر تشدد کے باوجود خاموشی اختیار کی جاتی ہے،ایسے حالات میں گھروں میں بیٹھنا نہ غیرت ہے نہ شرافت۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ 8 فروری کو پہیہ جام اور شٹر ڈاون ہڑتال کے ذریعے ملک بند کیا جائے تا کہ حقیقی مذاکرات کا راستہ کھلے۔
محمود خان اچکزئی نے واضح کیا کہ مذاکرات صرف اسی صورت ہوں گے جب آئین کی بالادستی تسلیم کی جائے گی اور شفاف انتخابات کے ذریعے عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے گا۔انہوں نے تحریک انصاف کی تنظیمی کمزوری پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ساڑھے تین کروڑ ووٹ لینے والی جماعت کا سربراہ جیل میں ہے اور تنظیم اتنی کمزور ہے کہ بیس لوگ اکٹھے نہیں ہو پاتے،اس طرح انقلاب نہیں آیا کرتا۔قبل ازیں محمود خان اچکزئی،سینیٹر علامہ راجا ناصر عباس اور دیگر اپوزیشن رہنما زمان پارک پہنچے،جہاں ان کے قافلے کو مختلف مقامات پر روکا گیا۔اپوزیشن کا الزام ہے کہ متعدد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔پنجاب پولیس نے دو مرتبہ زمان پارک کے داخلی راستے بند کر کے رہنماوں کو روکنے کی کوشش کی تاہم عوامی مزاحمت کے باعث وہ تمام رکاوٹیں عبور کرتے ہوئے شدید دباو کے باوجود زمان پارک کے دروازے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے،جہاں عوام کا بڑا ہجوم موجود تھا۔