ایک 11 سال کے یوکرینی بچے کی یورپی پارلیمنٹ میں تقریر محض الفاظ نہیں تھی بلکہ ایک ایسا نوحہ تھی جس نے دلوں کو چیر کر رکھ دیا۔۔۔اس معصوم بچے نے بتایا کہ وہ یوکرین سے ہے اور اس نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنی ماں کو جنگ کی آگ میں کھو دیا۔۔۔وہ لمحہ،وہ منظر، وہ درد۔۔۔ جسے لفظوں میں قید کرنا ممکن نہیں ۔۔۔ اس کی آواز میں صاف سنائی دے رہا تھا۔۔۔ایوان میں موجود ہر آنکھ نم ہو گئی،ہر سانس بوجھل ہو گئی اور لمحہ بھر کے لیے طاقت،سیاست اور مفاد سب خاموش ہو گئے ۔۔۔۔ یہ تقریر پوری دنیا کے طاقتور حکمرانوں کے لیے ایک گہرا اور کڑوا لمحہ فکریہ بن گئی۔۔۔۔ یہ وہ عمر ہوتی ہے جس میں بچے خواب دیکھتے ہیں، کھلونوں سے کھیلتے ہیں اور ہنسی میں زندگی گزارتے ہیں مگر اس بچے کی آواز میں خواب نہیں تھے،صرف درد تھا؛ہنسی نہیں تھی،صرف سسکیاں تھیں،معصومیت کے بجائے ایک اجڑا ہوا بچپن تھا ۔۔۔ اور ایک ایسی ماں کی کمی،جو اب کبھی واپس نہیں آئے گی۔۔۔

جب اس بچے نے اپنی داستان سنائی تو اس کے لفظ کانپ رہے تھے مگر سچ مضبوط اور بے رحم تھا ۔۔۔ اس نے کسی پر الزام نہیں لگایا ، کسی سے بدلہ نہیں مانگا، صرف یہ سوال کیا کہ کیا بچوں کا قصور ہوتا ہے ؟ اس کی آواز نے ان ایوانوں میں گونج پیدا کر دی جہاں برسوں سے انصاف خاموش کھڑا تھا ۔۔۔۔ یہ تقریر محض ایک سوال نہیں تھی بلکہ ایک چیخ تھی ۔۔۔ ایسی چیخ جو تاریخ کے صفحات پر لکھی جائے گی ۔۔۔۔ یہ اس دن کی گواہی بنے گی جب دنیا کے ضمیر سو رہے تھے اور ایک زخمی بچہ جاگ رہا تھا ۔۔۔۔ اگر آج بھی اس معصوم آواز کو نظرانداز کیا گیا تو کل یہی خاموشی انسانیت کا سب سے بڑا جرم کہلائے گی ۔۔۔ کیونکہ جب بچوں کو بولنا پڑ جائے تو سمجھ لینا چاہیے کہ دنیا بہت کچھ کھو چکی ہے۔۔۔