Home » بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن وار،54 دہشتگرد ہلاک،42 جوان وطن پر قربان،ڈی جی آئی ایس پی آر کی اہم بریفنگ

بلوچستان میں دہشتگردی کے خلاف فیصلہ کن وار،54 دہشتگرد ہلاک،42 جوان وطن پر قربان،ڈی جی آئی ایس پی آر کی اہم بریفنگ

by ahmedportugal
11 views
A+A-
Reset

راولپنڈی(ایگزو نیوز ڈیسک)ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بلوچستان میں حالیہ دہشتگردی کے واقعات اور سیکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے متعلق اہم بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو کسی صورت رعایت نہیں دی جائے گی،ریاست دشمن عناصر کا آخری حد تک تعاقب جاری رہے گا۔
ایگزو نیوز کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ گزشتہ چار روز کے دوران بلوچستان میں دہشتگردی کے تین بڑے واقعات پیش آئے،جن میں دہشتگردوں نے معصوم شہریوں،پولیس اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا۔انہوں نے بتایا کہ ان واقعات کے جواب میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 54 دہشتگرد ہلاک کیے جا چکے ہیں جبکہ وطن کے دفاع میں 42 اہلکاروں نے جامِ شہادت نوش کیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق پہلا بڑا واقعہ 4 اور 5 جولائی کی درمیانی شب پیش آیا،جس کے بعد 6 جولائی کو بلوچستان کے علاقے زیارت میں دہشتگردوں نے پولیس چیک پوسٹوں کو نشانہ بنایا جبکہ حالیہ واقعہ منگی ڈیم کوئٹہ پمپنگ سٹیشن کے قریب پیش آیا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے اپنے مذموم مقاصد کے لیے عام شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدف بنایا۔انہوں نے بتایا کہ ہنہ اوڑک میں فتنہ الخوارج کے دہشتگردوں نے شہریوں پر حملہ کیا تاہم مقامی افراد نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دہشتگردوں کا مقابلہ کیا۔اس واقعے میں 4 شہری شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے مانگی ڈیم واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دہشتگردوں نے پولیس کی چیک پوسٹ پر حملہ کیا،جس کے نتیجے میں پولیس اہلکاروں نے انتہائی بہادری سے مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کے دوران متعدد دہشتگرد ہلاک ہوئے تاہم اس دوران پولیس کے جوانوں نے بھی وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں کے خلاف آپریشن کے دوران فورسز نے حکمت عملی کے تحت کارروائیاں کیں کیونکہ بعض مقامات پر دہشتگردوں نے اہلکاروں کو یرغمال بھی بنایا ہوا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے گھیرا تنگ ہونے پر بزدلانہ کارروائی کرتے ہوئے پولیس اہلکاروں کو شہید کیا تاہم فورسز نے بھرپور جواب دیا۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ بلوچستان کے علاقے بیلہ میں فوجی قافلے کی دہشتگردوں کے ساتھ جھڑپ ہوئی،جس میں 14 دہشتگرد مارے گئے جبکہ ایک جے سی او سمیت 10 جوان شہید ہوئے۔انہوں نے کہا کہ خاران اور دالبندین میں بھی کارروائیاں کی گئیں جہاں مزید دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن دہشتگردی کی ان کارروائیوں میں ملوث ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان مخالف دہشتگرد سرگرمیوں کے لیے افغان سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور زیادہ تر ہلاک دہشتگردوں کا تعلق افغانستان سے تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں ہونے والے ایک حملے میں ملوث چار حملہ آوروں میں سے تین افغان شہری تھے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں دہشتگردی کے پیچھے بھارت سمیت وہ قوتیں ملوث ہیں جو پاکستان کے امن،ترقی اور استحکام کو نقصان پہنچانا چاہتی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ریاستی ادارے ان عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رکھیں گے۔ڈی جی آئی ایس پی آر نے واضح کیا کہ فتنہ الخوارج کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں جبکہ بلوچستان میں سرگرم دہشتگرد گروہوں کا مقصد علاقے کے امن اور ترقی کو نقصان پہنچانا ہے۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے اور ریاست عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گی۔انہوں نے کہا کہ دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ریاست پاکستان،عوام،فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہیں۔ہر دہشتگرد کا تعاقب کیا جائے گا اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے عزم کا اظہار کیا کہ دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو کمزور نہیں کر سکتی،پاکستان حق اور سچ کے ساتھ کھڑا ہے اور دہشتگردی کے خلاف جنگ میں کامیابی حاصل کرے گا۔

You may also like

Featured

Recent Articles

About Us

Exo News میں خوش آمدید، پوری دنیا سے تازہ ترین خبروں کی اپ ڈیٹس اور مواد تلاش کرنے میں آپ کے قابل اعتماد پارٹنر۔ ہم نے خود کو سرمایہ کاری، ہنر مند نیوز ایڈیٹرز، خبروں کی فوری ترسیل، تنوع اور امیگریشن کی تشکیل کے ذریعے خبروں اور تفریح ​​کے شعبے میں خدمات فراہم کرنے والے ایک سرکردہ ادارے کے طور پر قائم کیا ہے۔

تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں © 2024 ایگزو نیوز